حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 321
1005 اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خدائے تعالیٰ پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے۔مگر یہ ایمان غریبوں کو دیا گیا۔دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔(ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴۰) روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور رُوح پر ہے۔نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔(البدر مورخه ۱۸ جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۲۔ملفوظات جلد چہارم صفحه ۲۹۳٬۲۹۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ لے بھی ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم ( روزہ) تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جاوے۔اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اُس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔البدر مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۲ کالم نمبر۲۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۱ ۵۶۲٬۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تا کہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے۔وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دُعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔اگر خدا چاہتا تو دوسری اُمتوں کی طرح اس اُمت میں کوئی قید نہ رکھتا۔مگر اُس نے قید میں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینہ میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اُسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیماری اُس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر البقرة: ١٨٦