حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 28
سے بالکل پاک ہو جاوے مگر اس شرط کو جب قانونِ قدرت کے معیار کے ساتھ آزمایا جاوے تو ثابت ہوگا کہ اس شرط سے عہدہ برآ ہونا بالکل انسان کے لئے غیر ممکن ہے کیونکہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کے تمام حقوق ادا نہ کر لے تب تک نہیں کہہ سکتا کہ اس نے فرمانبرداری کے تمام دقائق کو ادا کر دیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ قانون قدرت صاف یہ شہادت دے رہا ہے اور انسان کا صحیفہ فطرت اس شہادت پر اپنے دستخط کر رہا ہے اور بزبان حال بیان کر رہا ہے کہ انسان کسی مرتبہ ترقی اور کمال میں اس قصور سے مبر انہیں ہوسکتا کہ وہ بمقابل خدا کی نعمتوں اور اس کے حقوق کے شکر نہیں کر سکا اور اس کے احکام کی کامل پیروی اور پوری بجا آوری میں بہت قاصر رہا۔پس اگر انسان کی نجات صرف اسی صورت میں ہے کہ جیسا کہ چاہئے تمام حقوق خدا تعالیٰ کے اس سے ادا ہو جاویں۔اور کسی پہلو سے ایک ذرہ قصور باقی نہ رہے اور اطاعت کی راہ میں ایک ذرہ بھی لغزش اس سے صادر نہ ہو تو یہ طریق نجات تعلیق بالمحال ہے۔نہ اس درجہ کی عہدہ بر آئی کسی کو حاصل ہوگی اور نہ وہ نجات پائے گا۔پس ایسا حکم خدا کا حکم نہیں ہو سکتا جو محال سے وابستہ اور صریح قانونِ قدرت کے برخلاف اور صحیفہ فطرت کے منافی ہے۔بھلا تم تمام مشرق و مغرب میں تلاش کر کے کوئی آدمی پیش تو کرو جو صغائر و کبائر اور کسی قسم کی غفلت سے بکلی پاک اور مبرا ہو اور جس نے تمام حقوق بندہ پروری ادا کر دیئے ہیں اور جس کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ تمام دقائق فرمانبرداری اور شکر گذاری کے بجالا چکا ہے اور جب اس زمانہ میں کوئی موجود نہیں تو یقیناً سمجھو کہ ایسا آدمی کبھی دنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوا اور نہ آئندہ اُس کے پیدا ہونے کی اُمید ہے اور جبکہ اپنے زور بازو سے تمام حقوق خدا تعالیٰ کے ادا کرنا اور ہر ایک نہج سے شکر گذاری کے طریقوں میں عہدہ برآ ہونا قانونِ قدرت اور صحیفہ فطرت کی رو سے غیر ممکن ہے اور خود تجربہ ہر ایک انسان کا اس پر گواہ ہے تو پھر مکتی کی بنا ایسے امر پر رکھنا کہ خود وہ محال اور ناشدنی ہے۔کسی ایسی کتاب کے شان کے مناسب نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو مگر ممکن ہے کہ جیسا کہ اور کئی باتوں میں وید میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں یہ خرابی بھی کسی زمانہ میں پیدا ہوگئی ہو اور ممکن ہے کہ دراصل یہ وید کی تعلیم نہ ہو بلکہ محرف مبدل ہو۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۵۰ تا ۵۲) مسیحی صاحبوں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ مسیح کے زمانہ کے بعد الہام اور وحی پر مہر لگ گئی ہے۔اور اب یہ نعمت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اور اب اس کے پانے کی کوئی بھی راہ نہیں اور قیامت تک نومیدی ہے اور فیض کا دروازہ بند ہے۔اور شائد یہی وجہ ہوگی کہ نجات پانے کے لئے ایک نئی تجویز نکالی