حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 27

2+9 کرتا ہے۔صد ہا آدمی ہمارے سلسلہ میں ایسے ہوں گے کہ وہ محض خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذات وسیع الرحمۃ ہے۔اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف آتا ہے تو وہ دو قدم آتا ہے اور جو شخص اس کی طرف جلدی سے چلتا ہے تو وہ اس کی طرف دوڑ تا آتا ہے اور نابینا کی آنکھیں کھولتا ہے۔پھر کیونکر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اس کی ذات پر ایمان لایا اور سچے دل سے اُس کو وحدہ لاشریک سمجھا اور اس سے محبت کی اور اُس کے اولیاء میں داخل ہوا پھر خدا نے اس کو نا بینا رکھا اور ایسا اندھا رہا کہ خدا کے نبی کو شناخت نہ کر سکا۔اس کی مؤید یہ حدیث ہے کہ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الجَاهِلِيَّة یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراط مستقیم سے بے نصیب رہا۔(حقیقة الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۱) یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف دید ہی کا ایک ایسا مذ ہب ہے جو اپنے پر میشر کو پُر غضب اور کینہ ور قرار دیتا ہے اور اس بات کا سخت مخالف ہے کہ خدا تعالیٰ تو بہ اور استغفار سے اپنے بندوں کا گناہ بخش دیتا ہے۔اور عجیب تریہ کہ اس مذہب میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پر میشر تمام مخلوقات کا مالک ہے اور تمام مخلوق جانداروں کی قسمت اس کے ہاتھ میں ہے۔اور وہی ایک ہے جس کے سامنے تمام گناہ گار پیش کئے جاتے ہیں لیکن انسانوں کی بدقسمتی کی وجہ سے اس میں یہ صفت غضب تو موجود ہے جو گناہ کو دیکھ کر اس کی سخت سے سخت سزا دیتا ہے لیکن اس میں یہ دوسری صفت موجود نہیں کہ کسی گنہگار کی تو بہ اور تضرع سے اس کا گناہ بھی بخش سکتا ہے۔بلکہ جس سے ایک ذرہ بھی قصور ہو گیا پھر نہ اس کی توبہ قبول نہ تضرع عاجزی قابل التفات۔حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ انسان ضعیف البنیان بوجہ اپنی فطرتی کمزوریوں کے گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور قدم قدم پر ٹھوکر کھانا اُس کی فطرت کا خاصہ ہے۔مگر وید نے انسان کی حالت پر رحم کر کے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا۔بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گناہ کے لئے بھی ایک لمبا اور نا پیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے۔حالانکہ گناہ گار اس وجہ سے بھی قابلِ رحم ہے کہ اس کی کمزور قوتیں جن سے گناہ صادر ہوتا ہے اس کی طرف سے نہیں بلکہ اُسی خدا نے پیدا کی ہیں۔پس اس حالت میں عاجز بندے اس بات کے مستحق تھے کہ اس مجبوری کا بھی ان کو فائدہ دیا جاتا مگر بقول آریہ صاحبان پر میشر نے ایسا نہیں کیا اور سزا دینے کے وقت یہ امر ملحوظ نہیں رکھا کہ آخر گناہ کے ارتکاب میں اس کا بھی تو کچھ دخل ہے اور وید نے مکتی دینے کے بارہ میں یہ شرط رکھی ہے کہ تب مکتی ملے گی کہ جب انسان گناہ