حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 309
۹۹۱ خدا کے کوئی اس کا معبود نہیں رہتا اور بجز خدا کے کوئی اس کا مطلوب باقی نہیں رہتا۔وہ مقام جو ابدال کا مقام ہے اور وہ جو قطب کا مقام ہے اور وہ جو غوث کا مقام ہے۔وہ یہی ہے کہ کلمہ لا إِلهَ إِلَّا الله پر دل سے ایمان ہو۔یہ کلمہ شریف ایک اللہ کے سوائے تمام الہوں کی نفی کرتا ہے۔تمام انفسی اور آفاقی الہ باہر نکال کر اپنے دل کو ایک اللہ کے واسطے پاک صاف کرنا چاہئے۔بعض بت ظاہر ہیں۔مگر بعض بت بار یک ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کے سوائے اسباب پر توکل کرنا بھی ایک بت ہے مگر یہ ایک بار یک بت ہے وہ باریک بت جو لوگ اپنی بغلوں کے اندر دبائے پھرتے ہیں ان کا نکالنا ایک مشکل امر ہے۔بڑے بڑے فلسفی اور حکیم ان کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتے۔وہ نہایت باریک کیڑے ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کی خوردبین کے سوائے نظر نہیں آ سکتے۔وہ بڑا ضرر انسان کو پہنچاتے ہیں۔وہ بت جذبات نفسانی کے ہیں جو کہ انسان کو خدا تعالیٰ اور اپنے ہم جنسوں کی حقوق تلفی میں حد سے باہر لے جاتے ہیں۔بہت سے پڑھے لکھے جو کہ عالم کہلاتے ہیں اور فاضل کہلاتے ہیں اور مولوی کہلاتے ہیں اور حدیثیں پڑھتے ہیں اپنے آپ میں ان بتوں کی شناخت نہیں کر سکتے اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ان بتوں سے بچنا بڑے بہادر آدمی کا کام ہے۔جولوگ ان بتوں کے پیچھے لگتے ہیں وہ آپس میں نفاق رکھتے ہیں۔ایک دوسرے کے حقوق تلف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک شکار مارا ہے۔حد سے زیادہ اسباب پر زور مارتے ہیں اور ان کا تمام بھروسہ ان اسباب ہی پر ہوتا ہے۔جب تک ان باتوں کا قلع قمع نہ کیا جاوے تو حید قائم نہیں ہو سکتی۔(البدر، مورخہ ۱۰ار جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱ کالم نمبر ۱ تا ۳) مفهوم لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کے سننے کے بعد نماز کی طرف توجہ کرو جس کی پابندی کے واسطے بار بار قرآن شریف میں تاکید کی گئی ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کے یہ فرمایا گیا ہے کہ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمُ سَاهُونَ یے ویل ہے ان نمازیوں کے واسطے جو کہ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔سو سمجھنا چاہئے کہ نماز ایک سوال ہے جو کہ انسان جدائی کے وقت درد اور حرقت کے ساتھ اپنے خدا کے حضور میں کرتا ہے کہ اس کو لقا اور وصال ہو کیونکہ جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کر سکتا۔طرح طرح کے طوق اور قسماقسم کے زنجیر انسان کی گردن میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ یہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں الماعون: ۶،۵