حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 308
۹۹۰ ارکانِ اسلام میں کئی بار ظاہر کر چکا ہوں کہ تمہیں صرف اتنے پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور لا إله إلا الله کے قائل ہیں۔قرآن شریف کے پڑھنے والے اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف زبان پر راضی نہیں ہوتا۔قرآن شریف میں یہودیوں کے قصے درج ہیں۔اُن پر خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل پہلے ہوئے لیکن جب اُن پر ایسا زمانہ آیا کہ اُن کی باتیں صرف زبان تک محدود رہ گئیں اور اُن کے دل دغا اور خیانت اور خیالات بد سے پُر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذاب اُن پر وارد کئے اور یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کو بندر اور سو رلکھا گیا ہے حالانکہ توریت اور زبور اُن کے پاس تھی اور وہ اس پر اپنا ایمان ظاہر کرتے تھے اور سارے نبیوں کو مانتے تھے لیکن خدا نے اُن کو پسند نہ کیا کیونکہ ان کی باتیں صرف زبان پر تھیں اور ان کے دلوں میں کچھ نہ تھا۔کلمہ کے معنے کی طرف غور کرو۔لا الہ الا الله انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کرتا ہے کہ میرا معبود بجز خدا کے اور کوئی نہیں۔اللہ ایک عربی لفظ ہے اور اس کے معنے معبود اور محبوب اور اصل مقصود کے ہیں۔یہ کلمہ قرآن شریف کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھلایا گیا ہے۔اکثر لمبی کتابوں کا یاد کرنا ہر ایک کے واسطے مشکل ہے اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔اُس نے ایک مختصر سا کلمہ سُنا دیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا جاوے۔جب تک خدا کو معبود نہ بنایا جاوے۔جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔حدیث شریف میں آیا ہے۔مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ بہشت میں داخل ہوا۔لوگوں نے اس حدیث کا مفہوم سمجھنے میں دھوکا کھایا ہے۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبان سے یہ کلمہ پڑھ لینا کافی ہے اور صرف اتنے سے انسان بہشت میں داخل ہو سکے گا۔خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ در حقیقت اس کلمہ کے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ اُن کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔جب کوئی شخص بچے طور پر کلمہ کا قائل ہو جاتا ہے تو بجز خدا کے اور کوئی اس کا پیارا نہیں رہتا۔بجز