حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 305
۹۸۷ اختیار کریں۔اب کا لفظ ایک ایسا حقیر اور ذلیل لفظ ہے کہ اوس میں کوئی حصہ پرورش یا ارادہ یا محبت کا شرط نہیں۔مثلاً ایک بکرا جو بکری پر جست کر کے نطفہ ڈال دیتا ہے یا ایک سانڈ بیل جو گائے پر جست کر کے اور اپنی شہوات کا کام پورا کر کے پھر اُس سے علیحدہ بھاگ جاتا ہے جس کے یہ خیال میں بھی نہیں ہوتا ہے کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔یا ایک سور جس کو شہوات کا نہایت زور ہوتا ہے اور بار بار وہ اسی کام میں لگا رہتا ہے اور کبھی اُس کے خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ اس بار بار کے شہوانی جوش سے یہ مطلب ہے کہ بہت سے بچے پیدا ہوں اور خنزیر زادے زمین پر کثرت سے پھیل جائیں اور نہ اس کو فطرتی طور پر یہ شعور دیا گیا ہے تاہم اگر بچے پیدا ہو جائیں تو بلاشبہ سور وغیرہ اپنے اپنے بچوں کے باپ کہلائیں گے۔اب جبکہ اب کے لفظ یعنی باپ کے لفظ میں دنیا کی تمام لغتوں کی رُو سے یہ معنے ہرگز مراد نہیں کہ وہ باپ نطفہ ڈالنے کے بعد پھر بھی نطفہ کے متعلق کچھ کار گذاری کرتا رہے تا بچہ پیدا ہو جائے یا ایسے کام کے وقت میں یہ ارادہ بھی اس کے دل میں ہو اور نہ کسی مخلوق کو ایسا اختیار دیا گیا ہے۔بلکہ باپ کے لفظ میں بچہ پیدا ہونے کا خیال بھی شرط نہیں اور اس کے مفہوم میں اس سے زیادہ کوئی امر ماخوذ نہیں کہ وہ نطفہ ڈال دے بلکہ وہ اسی ایک ہی لحاظ سے جو نطفہ ڈالتا ہے لغت کی رُو سے اب یعنی باپ کہلاتا ہے تو کیونکر جائز ہو کہ ایسا نا کارہ لفظ جس کو تمام زبانوں کا اتفاق ناکارہ ٹھہراتا ہے اس قادر مطلق پر بولا جائے جس کے تمام کام کامل ارادوں اور کامل علم اور قدرت کاملہ سے ظہور میں آتے ہیں۔اور کیونکر درست ہو کہ وہی ایک لفظ جو بکرا پر بولا گیا، بیل پر بولا گیا، سو ر پر بولا گیا وہ خدا تعالیٰ پر بھی بولا جائے۔یہ کیسی بے ادبی ہے جس سے نادان عیسائی باز نہیں آتے۔نہ ان کو شرم باقی رہی، نہ حیا باقی رہی، نہ انسانیت کی سمجھ باقی رہی، کفارہ کا مسئلہ کچھ ایسا اُن کی انسانی قوتوں پر فالج کی طرح گرا کہ بالکل نکما اور بے حس کر دیا۔اس جگہ ہم میکس ملر کے بعض شبہات اور وساوس کو بھی دور کرنا قرین مصلحت سمجھتے ہیں جو اوس نے اپنی کتاب لیکچر جلد اول علم اللسان کی بحث کے نیچے لکھے ہیں۔چنانچہ بطرز قولہ واقول کے ذیل میں تحریر ہیں۔قولہ۔ترقی علم کے موانعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض قوموں نے دوسری قوموں کو استخفاف اور تحقیر کی نگہ سے دیکھنے کے لئے اُن کی نسبت حقارت آمیز القاب تراشے۔اس لئے وہ ان محقر قوموں کی لغات کے سیکھنے سے قاصر رہے اور جب تک یہ الفاظ جنگلی اور عجمی کہنے کے انسان کی لغات اور فرہنگ