حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 300

۹۸۲ سے زبان عربی میں خدا تعالیٰ کو رحمن کہتے ہیں اور دوسری قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان موصوف میں اس کا نام رحیم ہے۔اسی خوبی کے دکھلانے کے لئے ہم عربی خطبہ کے پہلی ہی سطر میں رحمان کا لفظ لائے ہیں۔اب اس نمونہ سے دیکھ لو کہ چونکہ یہ رحم کی صفت اپنی ابتدائے تقسیم کے لحاظ سے الہی قانون قدرت کے دو قسم پر مشتمل تھی لہذا اس کے لئے زبان عربی میں دو مفرد لفظ موجود ہیں اور یہ قاعدہ طالب حق کے لئے نہایت مفید ہو گا کہ ہمیشہ عربی کے باریک فرقوں کے پہچاننے کے لئے صفات اور افعال الہیہ کو جو صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں معیار قرار دیا جائے۔اور ان کے اقسام کو جو قانون قدرت سے ظاہر ہوں عربی کے مفردات میں ڈھونڈا جائے۔اور جہاں کہیں عربی کے ایسے مترادف لفظوں کا باہمی فرق ظاہر کرنا مقصود ہو جو صفات یا افعالِ الہی کے متعلق ہیں تو صفات یا افعال الہی کی اس تقسیم کی طرف متوجہ ہوں جو نظام قانون قدرت دکھلا رہا ہے۔کیونکہ عربی کی اصل غرض النہیات کی خدمت ہے۔جیسا کہ انسان رہا کے وجود کی اصل غرض معرفت باری تعالیٰ ہے اور ہر یک چیز جس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اُسی غرض کو سامنے رکھ کر اس کے عقدے کھل سکتے ہیں اور اس کے جو ہر معلوم ہو سکتے ہیں۔مثلاً بیل صرف کل بہ رانی اور بارکشی کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر اس غرض کو نظر انداز کر کے اس سے وہ کام لینا چاہیں جو شکاری کتوں سے لیا جاتا ہے تو بے شک وہ ایسے کام سے عاجز آ جائے گا اور نہایت نکما اور ذلیل ثابت ہو گا۔لیکن اگر اصلی کام کے ساتھ اُس کی آزمائش کریں تو وہ بہت جلد اپنے وجود کی نسبت ثابت کرے گا کہ سلسلہ وسائل معیشت دنیوی کا ایک بھاری بوجھ اس کے سر پر ہے۔غرض ہر یک چیز کا ہنر اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب اس کا اصلی کام اس سے لیا جائے۔سوعربی کے ظہور اور بروز کا اصلی مقصود الہیات کا روشن چہرہ دکھلانا ہے۔مگر چونکہ اس نہایت باریک اور دقیق کام کا ٹھیک ٹھیک انجام دینا اور غلطی سے محفوظ رہنا انسانی طاقتوں سے بڑھ کر تھا۔لہذا خداوند کریم اور رحیم نے قرآن کریم کو عربی زبان کی بلاغت و فصاحت دکھلانے کے لئے اور مفردات کی نازک فرق اور مرکبات کا خارق عادت اعجاز ظاہر کرنے کے لئے بطور ایسے اعجاز کے بھیجا کہ تمام گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور عربی کی بلاغت کو اس کے مفردات اور مرکبات کی نسبت جو کچھ قرآن نے ظاہر کیا اس کو اس وقت کے اعلیٰ درجہ کے زبان دانوں نے نہ صرف قبول ہی کیا بلکہ مقابلہ سے عاجز آ کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ انسانی قوتیں ان حقائق اور معارف کے بیان کرنے اور زبان کا سچا اور حقیقی حسن دکھلانے سے عاجز ہیں۔اسی مقدس کلام سے رحمان اور رحیم کا بھی فرق معلوم ہوا۔جس کو ہم نے بطور نمونہ خطبہ مذکورہ میں لکھا ہے۔اور یہ