حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 299

۹۸۱ متقابلہ کی طرح واقع ہے اور الہیات کے قدرتی نقشہ کا ایک سیدھا انعکاسی خط عربی میں پڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔یہ صورت کسی دوسری زبان میں ہرگز موجود نہیں اور جب ہم عقل سلیم اور فہم مستقیم سے صفات الہیہ کی اس تقسیم پر نظر ڈالتے ہیں جو قدیم سے اور ازل سے صحیفہ عالم میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے تو وہی تقسیم عربی کے مفردات میں ہمیں ملتی ہے۔مثلاً جب ہم غور کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا رحم عقلی تحقیق کی رو سے اپنی ابتدائی تقسیم میں کتنے حصوں پر مشتمل ہو سکتا ہے تو اس قانون قدرت کو دیکھ کر جو ہماری نظر کے سامنے ہے صاف طور پر ہمیں سمجھ آ جاتا ہے کہ وہ رحم دو قسم پر ہے یعنی قبل از عمل و بعد از عمل کیونکہ بندہ پروری کا نظام بآواز بلند گواہی دے رہا ہے کہ رحمت الہی نے دو قسم سے اپنی ابتدائی تقسیم کے لحاظ سے بنی آدم پر ظہور و بروز فرمایا ہے۔اوّل وہ رحمت جو بغیر وجود عمل کسی عامل کے بندوں کے ساتھ شامل ہوئی۔جیسا کہ زمین اور آسمان اور شمس اور قمر اور ستارے اور پانی اور ہوا اور آگ اور وہ تمام نعمتیں جن پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے کیونکہ بلا شبہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے رحمت ہیں جو بغیر کسی استحقاق کے محض فضل اور احسان کے طور سے اس کو عطا ہوئے ہیں اور یہ ایسا فیض خاص ہے جو انسان کے سوال کو بھی اس میں دخل نہیں بلکہ اس کے وجود سے بھی پہلے ہے۔۔۔۔۔دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرع سے دعا کرتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخم ریزی کرتا ہے۔تو رحمت الہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح اگر غور سے دیکھو تو ہمارے ہر یک عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے رحمت الہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الہی سنتوں میں داخل ہیں کوئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی الفور رحمت الہی ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سرسبز کر دیتی ہے۔یہ دونوں رحمتیں اس قسم کی ہیں کہ ہم اُن کے بغیر جی ہی نہیں سکتے کیا ان کے وجود میں کسی کو کلام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو اجلی بدیہیات میں سے ہیں جن کے ساتھ ہماری زندگی کا تمام نظام چل رہا ہے۔پس جبکہ ثابت ہو گیا کہ ہماری تربیت اور تحمیل کے لئے دو رحمتوں کے دو چشمے قادر کریم نے جاری کر رکھے ہیں اور وہ اس کی دو صفتیں ہیں جو ہمارے درخت وجود کی آبپاشی کے لئے دورنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔تو اب دیکھنا چاہئے کہ وہ دو چشمے زبان عربی میں منعکس ہو کر کس کس نام سے پکارے گئے ہیں۔پس واضح ہو کہ پہلی قسم کی رحمت کے لحاظ۔