حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 298
۹۸۰ میں نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لئے پیدا کیا ہے در حقیقت دوسرے لفظوں میں یہ بیان ہے کہ میں نے انسانی حقیقت کو جو نطق اور کلام ہے مع اس کے تمام قومی اور افعال کے جو اُس کے زیر حکم چلتے ہیں اپنے لئے بنایا ہے۔کیونکہ جب ہم سوچتے ہیں کہ انسان کیا چیز ہے تو صریح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک جاندار ہے کہ جو اپنی کلام سے دوسرے جانوروں سے تمیز کھلی رکھتا ہے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ کلام انسان کی اصل حقیقت ہے اور باقی قومی اس حقیقت کی تابع اور خادم ہیں۔پس اگر یہ کہیں کہ انسان کا کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ انسان کی انسانیت خدا تعالیٰ کی طرف نہیں لیکن ظاہر ہے کہ خدا انسان کا خالق ہے اس لئے زبان کا معلم بھی وہی ہے اور اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے کہ وہ کس زبان کا معلم ہے ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اُس کی طرف سے وہی زبان ہے کہ جو بموجب منطوق وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ے اسی طرح معرفت الہی کی خادم ہو سکتی ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی دوسری بناوٹ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان صفات سے موصوف صرف عربی ہی ہے۔اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ معرفتِ باری تک پہنچانے کے لئے اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتی ہے جو الہیات کے ایک معنوی تقسیم کو جو قانون قدرت میں پائی جاتی ہے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے مفردات میں دکھاتی ہے۔اور صفات الہیہ کے نازک اور باریک فرقوں کو جو صحیفہ فطرت میں نمودار ہیں اور ایسا ہی توحید کے دلائل کو جو اسی صحیفہ سے مترشح ہیں اور خدا تعالیٰ کے انواع اقسام کے ارادوں کو جو اس کے بندوں سے متعلق اور صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں ایسے طور سے ظاہر کر دیتی ہے کہ گویا اُن کا ایک نہایت لطیف نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیتی ہے اور ان دقیق امتیازوں کو جو خدا تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور افعال اور ارادوں میں واقع ہیں جن کی شہادت اس کا قانونِ قدرت دے رہا ہے ایسی صفائی سے دکھا دیتی ہے کہ گویا ان کی تصویر کو آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے۔چنانچہ یہ بات بہداہت معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صفات اور افعال اور ارادوں کی چہرہ نمائی اور نیز اپنے فعل اور قول کے تطبیق کے لئے زبان عربی کو ایک متکفل خادم پیدا کیا ہے اور ازل سے یہی چاہا ہے کہ الہیات کے ہر مکتوم اور مقفل کے لئے یہی زبان کنجی ہو اور جب ہم اس نکتہ تک پہنچتے ہیں اور یہ عجیب عظمت اور خصوصیت عربی کی ہم پر کھلتی ہے تو دوسری تمام زبانیں سخت تاریکی اور نقصان میں پڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ جس طرح زبان عربی صفات الہیہ اور اس کی تمام تعلیموں کے لئے مرایا ل الذريت:۵۷