حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 26

۷۰۸ خدا کے آستانہ پر نہایت محبت اور عاشقانہ تپش کے ساتھ گر کر لازوال آرام پالیتی ہے اور اس کی محبت کے ساتھ خدا کی محبت تعلق پکڑ کر اس کو اس مقام محویت پر پہنچا دیتی ہے کہ جو بیان کرنے سے بلند اور برتر ہے۔( مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۶ ، ۴۱۷) نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے۔اس فضل کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے جو اپنا قانون ٹھہرایا ہوا ہے وہ کبھی باطل نہیں کرتا۔وہ قانون یہ ہے کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبُكُمُ اللهُ اور مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ " اگر اس پر دلیل پوچھو تو یہ ہے کہ نجات ایسی شے نہیں ہے کہ اُس کے برکات اور ثمرات کا پتہ انسان کو صرف مرنے کے بعد ہی ملے بلکہ نجات تو وہ امر ہے کہ جس کے آثار اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں کہ نجات یافتہ آدمی کو ایک بہشتی زندگی اسی دنیا میں مل جاتی ہے دوسرے مذاہب کے پابند بکلی اس سے محروم ہیں۔اگر کوئی کہے کہ اہل اسلام کی بھی یہی حالت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اسی لئے اس سے بے نصیب ہیں کہ کتاب اللہ کی پابندی نہیں کرتے۔اگر ایک شخص کے پاس دوا ہو اور وہ اُسے استعمال نہ کرے اور لا پروائی سے نہ کھاوے تو وہ بہر حال اُس کے فوائد سے محروم رہے گا۔یہی حال مسلمانوں کا ہے کہ اُن کے پاس قرآن جیسی پاک کتاب موجود ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں ہیں۔مگر جولوگ خدا کے کلام سے اعراض کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ انوار و برکات سے محروم رہتے ہیں۔پھر اعراض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک صوری اور معنوی یعنی ایک تو یہ ہے کہ ظاہری اعمال میں اعراض ہو اور دوسرے یہ کہ اعتقاد میں اور ہو اور انسان کو انوار و برکات سے حصہ نہیں مل سکتا جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ البدر ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۱ کالم نمبرا۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۱۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ بات بالکل سچ ہے کہ جس نے خدا کے رسولوں کو شناخت نہیں کیا اُس نے خدا کو بھی شناخت نہیں کیا۔خدا کے چہرے کا آئینہ اس کے رسول ہیں۔ہر ایک جو خدا کو دیکھتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے دیکھتا ہے۔پس یہ کس قسم کی نجات ہے کہ ایک شخص دنیا میں تمام عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذب اور منکر رہا اور قرآن شریف سے انکاری رہا۔اور خدا تعالیٰ نے اس کو آنکھیں نہ بخشیں۔اور دل نہ دیا اور وہ اندھا ہی رہا اور اندھا ہی مر گیا اور پھر نجات بھی پا گیا۔یہ عجیب نجات ہے! اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس شخص پر رحمت کرنا چاہتا ہے۔پہلے اس کو آنکھیں بخشتا ہے اور اپنی طرف سے اس کو علم عطا ال عمران:۳۲ ال عمران: ۸۶ التوبة : ١١٩