حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 276
۹۵۸ پہلے زمانوں میں دس سال میں بھی وہ مضمون قید تحریر میں نہیں آ سکتا تھا اور پھر اُن کے شائع کرنے کے اس قدر حیرت انگیز سامان نکل آئے ہیں کہ ایک تحریر صرف چالیس دن میں تمام دنیا کی آبادی میں شائع ہو سکتی ہے اور اس زمانہ سے پہلے ایک شخص بشر طیکہ اس کی عمر بھی لمبی ہو۔سو برس تک بھی اس وسیع اشاعت پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔پھر بعد اس کے اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَاتَّبَعَ سَبَبًا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِيَّةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا اَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِم حُسْنًا۔قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ تُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا وَآفَا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَقُوْلُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا یعنی جب ذوالقرنین کو جو مسیح موعود ہے ہر ایک طرح کے سامان دیے جائیں گے۔پس وہ ایک سامان کے پیچھے پڑے گا۔یعنی وہ مغربی ممالک کی اصلاح کے لئے کمر باندھے گا اور وہ دیکھے گا کہ آفتاب صداقت اور حقانیت ایک کیچڑ کے چشمہ میں غروب ہو گیا اور اس غلیظ چشمہ اور تاریکی کے پاس ایک قوم کو پائے گا جو مغربی قوم کہلائے گی۔یعنی مغربی ممالک میں عیسائیت کے مذہب والوں کو نہایت تاریکی میں مشاہدہ کرے گا۔نہ اُن کے مقابل پر آفتاب ہو گا جس سے وہ روشنی پاسکیں اور نہ ان کے پاس پانی صاف ہوگا جس کو وہ پیو یں۔یعنی ان کی علمی اور عملی حالت نہایت خراب ہوگی۔اور وہ روحانی روشنی اور روحانی پانی سے بے نصیب ہوں گے۔تب ہم ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کو کہیں گے کہ تیرے اختیار میں ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یعنی عذاب نازل ہونے کے لئے بددعا کرے ( جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مروی ہے ) یا اُن کے ساتھ حسنِ سلوک کا شیوہ اختیار کرے۔تب ذوالقرنین یعنی مسیح موعود جواب دے گا کہ ہم اُسی کو سزا دلانا چاہتے ہیں جو ظالم ہو وہ دنیا میں بھی ہماری بددعا سے سزا یاب ہوگا اور پھر آخرت میں سخت عذاب دیکھے گا۔لیکن جو شخص سچائی سے منہ نہیں پھیرے گا اور نیک عمل کرے گا اس کو نیک بدلا دیا جائے گا۔اور اس کو انہیں کاموں کی بجا آوری کا حکم ہوگا جو سہل ہیں اور آسانی سے ہو سکتے ہیں۔غرض یہ مسیح موعود کے حق میں پیشگوئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جبکہ مغربی ممالک کے لوگ نہایت تاریکی میں پڑے ہوں گے اور آفتاب صداقت اُن کے سامنے سے بالکل ڈوب جائے گا اور ایک گندے اور بد بو دار چشمہ میں ڈوبے گا یعنی بجائے سچائی کے بدبودار عقائد اور اعمال اُن میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور وہی اُن کا پانی ہو الكهف: ۸۹۸۶