حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 275
۹۵۷ ذو القرنين جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورہ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنے کھولے ہیں میں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں۔مگر یادر ہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گذشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف کی عبارت یہ ہے۔وَيَتَلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُوا عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا یعنی یہ لوگ تجھے سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں۔ان کو کہو کہ میں ابھی تھوڑا سا تذکرہ ذوالقرنین کا تم کو سناؤں گا۔اور پھر بعد اس کے فرمایا۔اِنَّا مَكَنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سببا لے یعنی ہم اُس کو یعنی مسیح موعود کو جو ذ والقر نین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔اور ہم ہر طرح سے ساز و سامان اس کو دے دیں گے اور اس کی کارروائیوں کو سہل اور آسان کر دیں گے۔یاد رہے کہ یہ وحی براہین احمدیہ قصص سابقہ میں بھی میری نسبت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمُ نَجْعَل لَّكَ سَهُولَةٌ فِي كُلِّ أَمْرٍ یعنی کیا ہم نے ہر ایک امر میں تیرے لئے آسانی نہیں کر دی یعنی کیا ہم نے تمام وہ سامان تیرے لئے میسر نہیں کر دیئے جو تبلیغ اور اشاعت حق کے لئے ضروری تھے جیسا کہ ظاہر ہے کہ اُس نے میرے لئے وہ سامان تبلیغ اور اشاعت حق کے میٹر کر دیئے جو کسی نبی کے وقت میں موجود نہ تھے۔تمام قوموں کی آمدو رفت کی راہیں کھولی گئیں طے مسافرت کے لئے وہ آسانیاں کر دی گئیں کہ برسوں کی راہیں دنوں میں طے ہونے لگیں اور خبر رسانی کے وہ ذریعے پیدا ہوئے کہ ہزاروں کوس کی خبریں چند منٹوں میں آنے لگیں ہر ایک قوم کی وہ کتابیں شائع ہوئیں جو مخفی اور مستور تھیں۔اور ہر ایک چیز کے بہم پہنچانے کے لئے ایک سبب پیدا کیا گیا۔کتابوں کے لکھنے میں جو جو دقتیں تھیں وہ چھاپہ خانوں سے دفع اور دُور ہو گئیں۔یہاں تک کہ ایسی ایسی مشینیں نکلی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے دس دن میں کسی مضمون کو اس کثرت سے چھاپ سکتے ہیں کہ الكهف : ۸۴ ۲ الکهف : ۸۵