حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 274
۹۵۶ اللہ اکبر۔اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اول درجہ کے دجال نہیں اور ان کے الزام کے لئے ایک سچے مسیح کی ضرورت نہیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا ؟ دیکھو! اے غافلود دیکھو!! کہ اسلامی عمارت کے مسمار کرنے کے لئے کس درجہ کی یہ کوشش کر رہے ہیں۔اور کس کثرت سے ایسے وسائل مہیا کئے گئے ہیں اور ان کے پھیلانے میں اپنی جانوں کو بھی خطرہ میں ڈال کر اور اپنے مال کو پانی کی طرح بہا کر وہ کوششیں کی ہیں کہ انسانی طاقتوں کا خاتمہ کر دیا ہے یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے اور پاکیزگی کے برخلاف منصوبے اس راہ میں ختم کئے گئے اور سچائی اور ایمانداری کے اُڑانے کے لئے طرح طرح کی سرنگیں طیار کی گئیں۔اور اسلام کے مٹادینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک با تیں نہایت درجہ کی جانکا ہی سے پیدا کی گئیں۔ہزار ہا قصے اور مباحثات کی کتابیں محض افترا کے طور پر اور محض اس غرض سے بنائی گئیں تا اگر اور طریق سے نہیں تو اسی طریق سے دلوں پر بد اثر پڑے۔کیا کوئی ایسار ہرنی کا طریق ہے جو ایجاد نہیں کیا گیا؟ کیا کوئی ایسی سبیل گمراہ کرنے کی باقی ہے جس کے یہ موجد نہیں؟ پس ظاہر ہے کہ یہ کرسچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجز اول درجہ کے دجال کے جو دجال معہود ہے اور کسی سے ظہور پذیر نہیں ہوسکتیں۔لہذا انہی لوگوں کو جو پادری صاحبوں کا گروہ ہے۔دجال معہود ماننا پڑا اور جبکہ ہم دنیا کے اس اکثر حصہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں جو گذر چکا تو ہماری نظر اس استقرائی شہادت کو ساتھ لے کر عود کرتی ہے کہ زمانہ کے سلسلہ گذشتہ میں جہاں تک پتہ مل سکتا ہے دجالیت کی صفت اور اس کی کامیابیوں میں کوئی ان لوگوں کا نظیر نہیں اور ان کے ان ساحرانہ کاموں میں کوئی ان کے مساوی نہیں اور چونکہ احادیث صحیحہ میں دجال معہود کی یہی علامت لکھی ہے کہ وہ ایسے فتنے برپا کرے گا کہ جہاں تک اس وقت سے ابتدائے دنیا کے وقت تک نظر ڈالیں اس کا نظیر نہیں ملے گا۔لہذا اس بات پر قطع اور یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح دجال جو گر جا سے نکلنے والا ہے یہی لوگ ہیں جن کے سحر کے مقابل پر معجزہ کی ضرورت تھی اور اگر انکار ہے تو پھر زمانہ گذشتہ کے دجالین میں سے ان کی نظیر پیش کرو۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۱ تا ۳۶۶)