حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 268

اور بلند ہوں گے اور ایسا ہی تدابیر معاشرت اور تجارت اور ترقی کا شتکاری غرض ہر یک بات میں ہر یک قوم پر فائق اور بلند ہو جائیں گی۔یہی معنے ہیں مِن كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کے کیونکہ حَدَب بالتحریک زمین بلند کو کہتے ہیں اور نسل کے معنے ہیں سبقت لے جانا اور دوڑ نا یعنی ہر قوم سے ہر ایک بات میں جو شرف اور بلندی کی طرف منسوب ہو سکتی ہے سبقت لے جائیں گے اور یہی بھاری علامت اس آخری قوم کی ہے جس کا نام یا جوج ماجوج ہے اور یہی علامت پادریوں کے اس گروہ پُرفتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے۔اور چونکہ حدب زمین بلند کو کہتے ہیں۔اس سے یہ اشارہ ہے کہ تمام زمینی بلندیاں ان کو نصیب ہوں گی مگر آسمانی بلندی سے بے نصیب ہوں گے۔اور اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی قوم یا جوج و ماجوج باعتبار اپنے ملکی عروج کے یا جوج ماجوج سے موسوم ہے اور اسی قوم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضلالت کے پھیلانے میں اپنی کوششیں انتہا کو پہنچائی ہیں اور دجال اکبر سے موسوم ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے ضلالت کے عروج کے ذکر کے وقت فرمایا کہ اس وقت نفخ صور ہو گا اور تمام فرقے ایک ہی جگہ پر اکٹھے کئے جائیں گے۔شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۲۳۶۱) یاد رہے کہ نبی کریم نے جن بد باتوں کے پھیلنے کی آخری زمانہ میں خبر دی ہے اسی مجموعہ کا نام دجالیت ہے جس کی تاریں یا یوں کہو کہ جس کی شاخیں صدر ہا قسم کی آنحضرت نے بیان فرمائی ہیں چنانچہ اُن میں سے وہ مولوی بھی دجالیت کے درخت کی شاخیں ہیں جنہوں نے لکیر کو اختیار کیا اور قرآن کو چھوڑ دیا۔قرآن کریم کو پڑھتے تو ہیں مگر ان کے حلقوں کے نیچے نہیں اترتا۔غرض دجالیت اس زمانہ میں عنکبوت کی طرح بہت سی تاریں پھیلا رہی ہے۔کافر اپنے کفر سے اور منافق اپنے نفاق سے اور مے خوار مے خواری سے اور مولوی اپنے شیوہ گفتن و نا کر دن اور سیہ دلی سے دجالیت کی تاریں بن رہے ہیں۔ان تاروں کو اب کوئی کاٹ نہیں سکتا بجز اس حربہ کے جو آسمان سے اُترے اور کوئی اس حربہ کو چلا نہیں سکتا بجز اُس عیسی کے جو اسی آسمان سے نازل ہو۔سو عیسی نازل ہو گیا۔وَ كَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا۔(نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۶۹) دراصل مسیح اُس صدیق کو کہتے ہیں جس کے مسح یعنی چھونے میں خدا نے برکت رکھی ہو اور اُس کے انفاس اور وعظ اور کلام زندگی بخش ہوں اور پھر یہ لفظ خصوصیت کے ساتھ اُس نبی پر اطلاق پا گیا جس نے الانبياء: ۹۷