حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 267
۹۴۹ بے ایمانی ہوگی کہ خدا کی کلام کی مخالفت کر کے کسی اور کو بڑا دجال ٹھہرایا جائے۔اگر کسی ایسے دجال کا کسی وقت وجود ہوسکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اسی کا نام دجال اکبر رکھتا نہ ان کا نام۔پھر یہ نشان دجال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارہ سے نکلتا ہے کہ يَكْسِرُ الصَّلِيبَ صاف بتلا رہا ہے کہ اس دجال اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا ٹھہرائے گا اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا تظاہر ہو گیا ہے۔جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجال اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتلائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہوگا اور وہ دجال اکبر کو قتل کرے گا۔ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جب کہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا دجل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجال اکبر نہیں ہے اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے وہ قرآن کا مکذب ہے۔اور نیز جبکہ لغت کی رُو سے بھی دجال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے۔اور حدیث کی رُو سے نشان دجال اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو باوجود اس کھلی کھلی تحقیق کے وہ شخص نہایت درجہ کور باطن ہے کہ جواب بھی حال کے پادریوں کو دجال اکبر نہیں سمجھتا۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا اصفحہ ۴۶ تا ۴۸ ) پھر ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں غلبہ نصاریٰ کا ہوگا اور اُن کے ہاتھ سے طرح طرح کے فساد پھیلیں گے اور ہر طرف سے امواج فتن اُٹھیں گی اور وہ ہر یک بلندی سے دوڑیں گی یعنی ہریک طور سے وہ اپنی قوت اور اپنا عروج اور اپنی بلندی دکھلائیں گی۔ظاہری طاقت اور سلطنت میں بھی اُن کی بلندی ہوگی کہ اور حکومتیں اور ریاستیں اُن کے مقابل پر کمزور ہو جائیں گی اور علوم وفنون میں بھی اُن کو بلندی حاصل ہوگی کہ طرح طرح کے علوم وفنون ایجاد کریں گے اور نادر اور عجیب صنعتیں نکالیں گے اور مکائد اور تدابیر اور حسنِ انتظام میں بھی بلندی ہوگی اور دنیوی مہمات میں اور ان کے حصول کے لئے اُن کی ہمتیں بھی بلند ہوں گی اور اشاعت مذہب کی جدو جہد اور کوشش میں بھی وہ سب سے فائق