حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 23

۷۰۵ فرماتا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لے یعنی اگر میرے بندے میری نسبت سوال کریں کہ وہ کہاں ہے؟ تو ان کو کہہ کہ وہ تم سے بہت ہی قریب ہے۔میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تا کامیاب ہوں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۹۴ تا ۳۹۶) غرض نجات کی فلاسفی یہی ہے کہ خدا سے پاک اور کامل تعلق پیدا کرنے والے اس لا زوال نور کا مظہر ہو جاتے ہیں اور اُس کی محبت کی آگ میں پڑ کر ایسے اپنی ہستی سے دُور ہو جاتے ہیں کہ جیسا کہ لوہا آگ میں پڑ کر آگ کی صورت ہی اختیار کر لیتا ہے مگر در حقیقت وہ آگ نہیں ہے لوہا ہے اور جیسا کہ خدا کی تجلیات سے اس کے عاشقوں میں ایک حیرت نما تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے ایسا ہی خدا بھی ان کے لئے ایک تبدیلی پیدا کرتا ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا غیر متبدل اور ہر ایک تبدیلی سے پاک ہے مگر ان کے لئے وہ ایسے عجائب کام دکھلاتا ہے کہ گویا وہ ایک نیا خدا ہے۔وہ خدا نہیں ہے جو عام لوگوں کا خدا ہے کیونکہ جس قد رخدا کے راستباز بندے اپنے پاک اعمال اور صدق اور وفا کے ساتھ اس کی طرف حرکت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی پہلی ہستی سے مر جاتے ہیں خدا بھی ان کی طرف اکرام اور نصرت کے ساتھ حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی نصرت اور حمایت اور غیرت کو اُن کے لئے ایسے طور سے دکھاتا ہے کہ وہ معمولی طور پر نہیں بلکہ وہ نصرت خارق عادت طور پر ظاہر ہوتی ہے۔یہ بالکل غیر ممکن اور خدا کی کریمانہ عادت کے برخلاف ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے بندہ کو جہنم میں ڈالے کہ جو اپنے سارے دل اور ساری جان اور کامل اخلاص سے اُس کی محبت میں محو ہے اور ایسا محو ہے کہ جیسا کہ سچی محبت کا تقاضا ہونا چاہئے۔کسی کو اس کے برابر نہیں جانتا بلکہ ہر ایک کو اس کے مقابل پر کالعدم سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو اس کی راہ میں فنا کرنے کو تیار ہے پھر ایسا شخص کیونکر مورد عذاب ہوسکتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کامل محبت ہی نجات ہے۔بھلا تم سچ کہو کہ کیا تم اپنے ایک بچے کو جس سے تم بہت ہی محبت رکھتے ہو دانستہ آگ میں ڈال سکتے ہو؟ پھر خدا جو سراسر محبت ہے ان لوگوں کو جو اس سے پیار کرتے ہیں اور ذرہ ذرہ اُن کا اُس کی محبت میں مستغرق ہے کیونکر آگ میں ڈالے گا۔پس کوئی قربانی اس سے بہتر قربانی نہیں ہے کہ انسان اس محبوب حقیقی سے اس قدر محبت کرے کہ خود وہ اس بات کو محسوس البقرة: ۱۸۷