حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 22

۷۰۴ پر آکر خدا انسان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور زبان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ بولتا ہے اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ حملہ کرتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور پیر ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یا یہ اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے اور ایسا ہی فرماتا ہے۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى T یعنی جو تو نے چلایا تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا۔غرض اس درجہ پر خدا تعالیٰ کے ساتھ کمال اتحاد ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی پاک مرضی رُوح کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہے اور اخلاقی طاقتیں جو کمزور تھیں اس درجہ میں محکم پہاڑوں کی طرح نظر آتی ہیں۔عقل اور فراست نہایت لطافت پر آ جاتی ہے۔یہ معنے اس آیت کے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَيَّدَهُمْ بِرُوجٍ مِّنْہ کے اس مرتبہ میں محبت اور عشق کی نہریں ایسے طور سے جوش مارتی ہیں جو خدا کے لئے مرنا اور خدا کے لئے ہزاروں دکھ اُٹھانا اور بے آبرو ہونا ایسا آسان ہو جاتا ہے کہ گویا ایک ہلکا سا تنکا توڑنا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ کون کھینچ رہا ہے۔ایک غیبی ہاتھ اُس کو اُٹھائے پھرتا ہے اور خدا کی مرضوں کو پورا کرنا اُس کی زندگی کا اصل الاصول ٹھہر جاتا ہے۔اس مرتبہ میں خدا بہت ہی قریب دکھائی دیتا ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ہے یعنی ہم اُس سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں۔ایسی حالت میں اس مرتبہ کا آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جس طرح پھل پختہ ہو کر خود بخود درخت پر سے گر جاتا ہے اسی طرح اس مرتبہ کے آدمی کے تمام تعلقات سفلی کا العدم ہو جاتے ہیں۔اس کا اپنے خدا سے ایسا گہرا تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ مخلوق سے دُور چلا جاتا اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات سے شرف پاتا ہے۔اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے اب بھی دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے کھلے ہوئے تھے۔اور اب بھی خدا کا فضل یہ نعمت ڈھونڈنے والوں کو دیتا ہے جیسا کہ پہلے دیتا تھا مگر یہ راہ محض زبان کی فضولیوں کے ساتھ حاصل نہیں ہوتی اور فقط بے حقیقت باتوں اور لافوں سے یہ دروازہ نہیں کھلتا۔چاہنے والے بہت ہیں مگر پانے والے کم۔اس کا کیا سبب ہے؟ یہی کہ یہ مرتبہ کچی سرگرمی، کچی جانفشانی پر موقوف ہے۔باتیں قیامت تک کیا کرو کیا ہو سکتا ہے۔صدق سے اس آگ پر قدم رکھنا جس کے خوف سے اور لوگ بھاگتے ہیں اس راہ کی پہلی شرط ہے۔اگر عملی سرگرمی نہیں تو لاف زنی بیچ ہے۔اس بارہ میں اللہ جل شانہ الفتح : اا الانفال: ۱۸ المجادلة :٢٣