حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 261

۹۴۳ گیا ہوں۔دنیا نے بہت کچھ اندھیرے میں گشتی کی۔بہتوں نے اپنے بچے خیر خواہوں پر حربے چلائے اور اپنے دردمند دوستوں کے دلوں کو دکھایا اور عزیزوں کو زخمی کیا۔مگر اب اندھیرا نہیں رہے گا۔رات گذری۔دن چڑھا۔اور مبارک وہ جواب محروم نہ رہے !! مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۷۲ تا ۸۸) یہ ایک سر اسرار الہیہ میں سے ہے کہ جب کسی رسول یا نبی کی شریعت اس کے فوت ہونے کے بعد بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصل تعلیموں اور ہدایتوں کو بدلا کر بے ہودہ اور بے جا باتیں اُس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور ناحق کا جھوٹ افترا کر کے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ تمام کفر اور بدکاری کی باتیں اس نبی نے ہی سکھلائی تھیں تو اس نبی کے دل میں ان فسادوں اور تہمتوں کے دُور کرنے کے لئے ایک اشد توجہ اور اعلیٰ درجہ کا جوش پیدا ہو جاتا ہے تب اُس نبی کی روحانیت تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قائم مقام اس کا زمین پر پیدا ہو۔اب غور سے اس معرفت کے دقیقہ کوسنو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دومرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ اُن کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔اوّل جبکہ اُن کے فوت ہونے پر چھ سو برس گذر گیا۔اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا۔اور عیسائیوں نے اس بات پر غلو کیا کہ وہ خدا تھا اور خدا کا بیٹا تھا اور دنیا کو نجات دینے کے لئے اُس نے صلیب پر جان دی۔پس جبکہ مسیح علیہ السلام کی بابرکت شان میں نابکار یہودیوں نے نہایت خلاف تہذیب جرح کی اور بموجب توریت کی اس آیت کے جو کتاب استثنا میں ہے کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کو لعنتی قرار دیا اور مُتَفَنِّی اور کاذب اور نا پاک پیدائش والا ٹھہرایا اور عیسائیوں نے اُن کی مدح میں اطراء کر کے ان کو خدا ہی بنا دیا اور اُن پر یہ تہمت لگائی کہ یہ تعلیم انہی کی ہے تب بہ اعلام الہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے اُن تمام الزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا۔تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بے جا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت کی گواہی دیں۔یہی وجہ ہے کہ خود مسیح نے یوحنا کی انجیل کے ۱۶ باب میں کہا کہ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) تم پاس نہ