حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 262
۹۴۴ آئے گا۔پھر اگر میں جاؤں تو اُسے تم پاس بھیج دوں گا۔اور وہ آکر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔گناہ سے اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔راستی سے اس لئے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت سے اس لئے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔جب وہ رُوح حق آئے گی تو تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا دے گی۔وہ رُوح حق میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پائے گی۔(یوحنا :۱۴) وہ تسلی دینے والا جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا۔(لوقا باب ۱۳ آیت ۳۵) ” میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ مجھ کو نہ دیکھو گے اس وقت تک کہ تم کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر (یعنی مسیح علیہ السلام کے نام پر ) آتا ہے۔ان آیات میں مسیح کا یہ فقرہ’ میں اُسے تم پاس بھیج دوں گا اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ مسیح کی روحانیت اس کے آنے کے لئے تقاضا کرے گی اور یہ فقرہ کہ باپ اُس کو میرے نام سے بھیجے گا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح کی تمام روحانیت پائے گا اور اپنے کمالات کی ایک شاخ کی رُو سے وہ مسیح ہو گا جیسا کہ ایک شاخ کی رو سے وہ موسیٰ ہے۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ” میری مسیح سے بشدت مناسبت ہے اور اس کے وجود سے میرا وجود ملا ہوا ہے۔پس اس حدیث میں حضرت مسیح کے اس فقرہ کی تصدیق ہے کہ وہ نبی میرے نام پر آئے گا۔سوالیسا ہی ہوا کہ ہمارا مسیح صلی اللہ علیہ وسلم جب آیا تو اُس نے مسیح ناصری کے نا تمام کاموں کو پورا کیا اور اس کی صداقت کے لئے گواہی دی اور اُن تہمتوں سے اُس کو بری قرار دیا جو یہود اور نصاریٰ نے اس پر لگائی تھیں۔اور مسیح کی رُوح کو خوشی پہنچائی۔یہ مسیح ناصری کی رُوحانیت کا پہلا جوش تھا جو ہمارے سید ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آ گئی اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعوی بھی کرے گا اور خدائی کا بھی۔ایسا ہی انہوں نے کیا۔نبوت کا دعوی اس طرح پر کیا کہ کلام الہی میں اپنی طرف سے وہ دخل دیئے وہ قواعد مرتب کئے اور وہ تنسیخ ترمیم کی جو ایک نبی کا کام تھا۔جس حکم کو چاہا قائم کر دیا اور اپنی طرف سے عقائد نامے اور عبادت کے طریقے گھڑ لئے اور ایسی آزادی سے مداخلت بے جا کی کہ گویا ان باتوں کے لئے وحی الہی ان پر نازل ہو گئی۔سوالہی کتابوں میں اس قدر بے جا دخل دوسرے رنگ میں نبوت کا دعویٰ ہے۔اور خدائی کا دعوی اس طرح پر کہ ان کے فلسفہ دانوں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح تمام کام خدائی کے ہمارے