حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 258
۹۴۰ بھی کی گئی اور شیطان نے اس کو کہا کہ اگر تو میرا یہ حکم مان لے کہ ان فقیری کے کاموں سے باز آ جائے اور گھر کی طرف چلا جائے تو میں تجھ کو بادشاہت کی شان و شوکت عطا کروں گا لیکن جیسا کہ مسیح نے شیطان کی اطاعت نہ کی ایسا ہی لکھا ہے کہ بدھ نے بھی نہ کی۔۔۔۔۔اور پھر ایک اور مشابہت بدھ کی حضرت مسیح سے پائی جاتی ہے کہ بدھ ازم میں لکھا ہے کہ بدھ اُن ایام میں جو شیطان سے آزمایا گیا روزے رکھتا تھا اور اس نے چالیس روزے رکھے۔اور انجیل پڑھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے بھی چالیس روزے رکھے تھے۔اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے بدھ اور مسیح کی اخلاقی تعلیم میں اس قدر مشابہت اور مناسبت ہے کہ ہر ایک ایسا شخص تعجب کی نظر سے دیکھے گا جو دونوں تعلیموں پر اطلاع رکھتا ہوگا۔۔اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح نے مختلف ملکوں کی طرف اپنے شاگردوں کو روانہ کیا اور آپ بھی ایک ملک کی طرف سفر اختیار کیا یہ باتیں بدھ کے سوانح میں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ بدھ ازم مصنفہ سر مونیر ولیم میں لکھا ہے کہ بدھ نے اپنے شاگردوں کو دنیا میں تبلیغ کے لئے بھیجا اور ان کو اس طرح پر خطاب کیا۔”باہر جاؤ اور ہر طرف پھر نکلو۔اور دنیا کی غم خواری اور دیوتاؤں اور آدمیوں کی بہتری کے لئے ایک ایک ہو کر مختلف صورتوں میں نکل جاؤ اور یہ منادی کرو کہ کامل پر ہیز گار بنو۔پاک دل بنو۔برہم چاری یعنی تنہا اور مجرد رہنے کی خصلت اختیار کرو۔اور کہا کہ ”میں بھی اس مسئلہ کی منادی کے لئے جاتا ہوں۔“ اور بدھ بنارس کی طرف گیا اور اس طرف اس نے بہت معجزات دکھائے اور اس نے ایک نہایت مؤثر وعظ ایک پہاڑی پر کیا۔جیسا کہ مسیح نے پہاڑی پر وعظ کیا تھا۔اور پھر اسی کتاب میں لکھا ہے کہ بدھ اکثر مثالوں میں وعظ کیا کرتا تھا اور ظاہری چیزوں کو لے کر رُوحانی امور کو اُن میں پیش کیا کرتا تھا بدھ کا بینہ حضرت مسیح کی طرح مثالوں میں اپنے شاگردوں کو سمجھانا خاص کر وہ مثالیں جو انجیل میں آ چکی ہیں نہایت حیرت انگیز واقعہ ہے۔بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بدھ نے ایک اور آنے والے بدھ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جس کا نام متیا بیان کیا تھا۔یہ پیشگوئی بدھ کی کتاب لگاوتی ستنا میں ہے جس کا حوالہ کتاب اولڈن برگ صفحہ ۱۴۲ میں دیا گیا ہے۔اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے کہ متیا لاکھوں مریدوں کا پیشوا ہو گا جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں۔اس جگہ یادر ہے کہ جو لفظ عبرانی میں مشیحا ہے وہی پالی زبان میں منیا کر کے بولا گیا ہے وہ آنے والا متیا جس کی بدھ نے پیشگوئی کی تھی وہ در حقیقت مسیح ہے اور کوئی وہ نہیں۔اس بات پر بڑا پختہ قرینہ یہ ہے کہ بدھ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ جس مذہب کی اُس نے بنیا د رکھی