حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 256

۹۳۸ اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اُس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۳) حضرت عیسی علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں۔یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں تو تقریباً اسی کوس یعنی ۱۳۰ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔اور چترال کی راہ سے سوکوس کا فاصلہ ہے۔لیکن حضرت مسیح نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا اسرائیل کی کھوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیضیاب ہو جائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے۔اس لئے کشمیر میں آ کر بآسانی تبت میں جاسکتے تھے اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔سوجیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہو گا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالبا وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتدا میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا۔اور چونکہ وہ ملک بلا د شام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کر لی ہو گی۔اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔افغانوں میں ایک قوم عیسی خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسی کی ہی اولاد ہوں مگر افسوس کہ افغانوں کی قوم کا تاریخی شیرازہ نہایت درہم برہم ہے اس لئے اُن کے قومی تذکروں کے ذریعہ سے کوئی اصلیت پیدا کرنا نہایت مشکل امر ہے۔بہر حال اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ افغان بنی اسرائیل میں سے ہیں جیسا کہ کشمیری بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں۔( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۰،۶۹ ) تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے ان کو ہدایت