حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 254

۹۳۶ کی کتابوں میں یہ نسخہ لکھا گیا وہ ہزار کتاب سے بھی زیادہ ہیں جن کی فہرست لکھنے سے بہت طول ہو غرض مرہم عیسی حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے اگر اس شہادت کو قبول نہ گا۔کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶ ۵ تا ۶۱) واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اُن کے فرض رسالت کے رو سے ملک پنجاب اور اس کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا۔کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گمشدہ بھیٹر میں رکھا گیا ہے ان ملکوں میں آگئے تھے۔جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گم شدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے۔اور جب تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک اُن کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی کیونکہ جس حالت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن گمشدہ بھیڑوں کی طرف بھیجے گئے تھے تو پھر بغیر اس کے کہ وہ ان بھیڑوں کے پیچھے جاتے اور ان کو تلاش کرتے اور ان کو طریق نجات بتلاتے یونہی دنیا سے کوچ کر جانا ایسا تھا کہ جیسا کہ ایک شخص ایک بادشاہ کی طرف سے مامور ہو کہ وہ فلاں بیابانی قوم میں جا کر ایک کنواں کھودے اور اس کنوئیں سے اُن کو پانی پلاوے لیکن یہ شخص کسی دوسرے مقام میں تین چار برس رہ کر واپس چلا جائے اور اس قوم کی تلاش میں ایک قدم بھی نہ اٹھائے تو کیا اُس نے بادشاہ کے حکم کے موافق تعمیل کی ؟ ہر گز نہیں بلکہ اُس نے محض اپنی آرام طلبی کی وجہ سے اس قوم کی کچھ پرواہ نہ کی۔(مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۴٬۹۳) قرآن شریف میں ایک آیت میں صریح کشمیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح اور اس کی والدہ صلیب کے واقعہ کے بعد کشمیر کی طرف چلے گئے۔جیسا کہ فرماتا ہے وَ أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِيْنِ یے یعنی ہم نے عیسی اور اس کی والدہ کو ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور پانی صاف یعنی چشموں کا پانی وہاں تھا۔سو اس میں خدا تعالیٰ نے کشمیر کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔اور اوی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا ہے اور صلیب سے پہلے عیسی اور اُس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گذرا جس سے پناہ دی جاتی پس متعین ہوا کہ خدا تعالیٰ نے عیسی اور اس کی والدہ کو واقعہ صلیب کے بعد اس ٹیلے پر پہنچایا تھا۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۷ حاشیہ) ل المؤمنون:۵۱