حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 250

۹۳۲ بات انہونی نہیں اپنی مخلصی چاہے۔سو خدا نے اپنی قدیم سنت کے موافق اُس کی دُعا کو سُنا۔یہودی اس بات میں جھوٹے تھے جنہوں نے صلیب دے کر یہ طعنہ مارا کہ اُس نے خدا پر توکل کیا تھا کیوں خدا نے اُس کو نہ چھڑایا۔کیونکہ خدا نے یہودیوں کے تمام منصوبے باطل کئے اور اپنے پیارے مسیح کو صلیب اور اس کی لعنت سے بچالیا اور یہودی نا مرادر ہے۔اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ آیت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔”ہاہل راستباز کے خون سے برخیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک جسے تم نے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا۔“ دیکھومتی باب ۲۳ آیت ۳۵ و ۳۶۔اب ان آیات پر اگر نظر غور کرو تو واضح ہوگا کہ ان میں حضرت مسیح علیہ السلام نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودیوں نے جس قدر نبیوں کے خون کئے ان کا سلسلہ ذکر یا نبی تک ختم ہو گیا اور بعد اس کے یہودی لوگ کسی نبی کے قتل کرنے کے لئے قدرت نہیں پائیں گے۔یہ ایک بڑی پیشگوئی ہے اور اس سے نہایت صفائی کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے بچ کر نکل گئے اور آخر طبعی موت سے فوت ہوئے۔کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی زکریا کی طرح یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے تو ان آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام ضرور اپنے قتل کئے جانے کی طرف بھی اشارہ کرتے۔( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶ تا ۳۴) کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیونکر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹہ میں نکل گئی ؟ اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ ہم نے مسیح کو تلوار سے قتل کر دیا تھا حالانکہ یہودیوں کی پُرانی تاریخ کے رو سے مسیح کو تلوار کے ذریعہ سے قتل کرنا ثابت نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ مسیح کے بچانے کے لئے اندھیرا ہوا۔بھونچال آیا۔پلا طوس کی بیوی کو خواب آئی سبت کے دن کی رات قریب آ گئی جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا روا نہ تھا۔حاکم کا دل بوجہ ہولناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کیلئے متوجہ ہوا۔یہ تمام واقعات خدا نے اس لئے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تا مسیح کی جان بچ جائے اس کے علاوہ مسیح کو ششی کی حالت میں کر دیا کہ تا ہر ایک کو مردہ معلوم ہو۔اور یہودیوں پر اُس وقت ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ کے دکھلا کر بزدلی اور خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا اور یہ دھڑ کا