حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 249
۹۳۱ قسمت تھا کہ اُس نے مسیح کو دیکھا۔لیکن قیصر نے اس نعمت کو نہ پایا۔اُس نے نہ صرف دیکھا بلکہ بہت رعایت کی اور اُس کا ہر گز منشانہ تھا کہ مسیح صلیب پاوے۔چنانچہ انجیلوں کے دیکھنے سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ پلا طوس نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ مسیح کو چھوڑ دے لیکن یہودیوں نے کہا کہ اگر تو اس مرد کو چھوڑ دیتا ہے تو تو قیصر کا خیر خواہ نہیں۔اور منجملہ اُن شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ۲۶ میں یعنی آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے۔جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دُعا کرتے رہے اور ضرور تھا کہ ایسی تفرع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بیقراری کے وقت کا سوال ہو ہرگز رد نہیں ہوتا۔پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دُعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دعا رڈ ہو گئی۔حالانکہ مسیح دعوی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے۔پس کیونکر باور کیا جائے کہ خدا اُس کی سنتا تھا۔جب کہ ایسی بیقراری کی دعاسنی نہ گئی اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دعا ضرور قبول ہو گئی اور اس دُعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اُس نے اپنی اُمید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی‘ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔یعنی مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہو گا اور میں صلیب پر مروں گا۔اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعا سنے گا۔بلاشبہ خدائے تعالی دعاوں کو سنتا ہے بالخصوص جبکہ اُس پر بھروسہ کرنے والے مظلوم ہونے کی حالت میں اُس کے آستانہ پر گرتے ہیں تو وہ اُن کی فریاد کو پہنچتا ہے اور ایک عجیب طور پر اُن کی مدد کرتا ہے اور ہم اس بات کے گواہ ہیں تو پھر کیا باعث اور کیا سبب کہ مسیح کی ایسی بیقراری کی دُعا منظور نہ ہوئی؟ نہیں بلکہ منظور ہوئی اور خدا نے اسکو بچا لیا۔خدا نے اُس کے بچانے کے لئے زمین سے بھی اسباب پیدا کئے اور آسمان سے بھی۔یوحنا یعنی سیکی نبی کو خدا نے دُعا کرنے کے لئے مہلت نہ دی کیونکہ اس کا وقت آپ کا تھا مگر مسیح کو دُعا کرنے کے لئے تمام رات مہلت دی گئی۔اور وہ ساری رات سجدہ میں اور قیام میں خدا کے آگے کھڑا رہا کیونکہ خدا نے چاہا کہ وہ بیقراری ظاہر کرے اور اس خدا سے جس کے آگے کوئی