حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 248

۹۳۰ ہو گئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہوا کہ جس قبر میں وہ رکھا گیا وہ اس ملک کی قبروں کی طرح نہ تھی بلکہ ایک ہوا دار کو ٹھہ تھا جس میں ایک کھڑ کی تھی اور اس زمانہ میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ قبر کو ایک ہوادار اور کشادہ کوٹھہ کی طرح بناتے تھے اور اس میں ایک کھڑ کی رکھتے تھے اور ایسی قبریں پہلے سے موجود رہتی تھیں اور پھر وقت پر میت اس میں رکھی جاتی تھیں۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں پلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔اور جبکہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا ہے یوسف آرمیتیہ جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاطس کے پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی اور پلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ وہ یعنی مسیح ایسا جلد مر گیا۔دیکھو مرقس باب ۱۵ آیت ۴۲ سے ۴۴ تک۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا اور شبہ بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔آکر اور منجملہ اُن شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں کیونکہ وہ دن تیاری کا تھا بلکہ بڑا ہی سبت تھا پلا طوس سے عرض کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔تب سپاہیوں نے لر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے توڑیں۔لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آ کے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے۔تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اسکی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا۔دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے آیت ۳۴ تک۔ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اُس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اس کی ہڈیاں توڑتے تھے۔لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑی گئیں اور وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔اسی وجہ سے پہلی چھیدنے سے خون بھی نکلا۔مُردہ کا خون جم جاتا ہے اور اس جگہ یہ بھی صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر یہ کچھ سازش کی بات تھی۔پلاطوس ایک خدا ترس اور نیک دل آدمی تھا۔کھلی کھلی رعایت سے قیصر سے ڈرتا تھا۔کیونکہ یہودی مسیح کو باغی ٹھہراتے تھے۔مگر وہ خوش