حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 247

۹۲۹ اُس کا وہ سفر دور دراز ہے جو قبر سے نکل کر جلیل کی طرف اس نے کیا۔چنانچہ اتوار کی صبح کو پہلے وہ مریم مگر لینی کو ملا۔مریم نے فی الفور حواریوں کو خبر کی کہ مسیح تو جیتا ہے لیکن وہ یقین نہ لائے۔پھر وہ حواریوں میں سے دو کو جبکہ وہ دیہات کی طرف جاتے تھے دکھائی دیا۔آخر وہ گیاروں کو جبکہ وہ کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اُن کی بے ایمانی اور سخت دلی پر ملامت کی دیکھو انجیل مرقس باب ۱۶ آیت ۹ سے آیت ۱۴ تک اور جب مسیح کے حواری سفر کرتے ہوئے اس بستی کی طرف جارہے تھے جس کا نام املوس ہے جو یوروشلم سے پونے چار کوس کے فاصلے پر ہے۔تب مسیح اُن کو ملا۔اور جب وہ اس بستی کے نزدیک پہنچے تو مسیح نے آگے بڑھ کر چاہا کہ اُن سے الگ ہو جائے تب انہوں نے اُس کو جانے سے روک لیا کہ آج رات ہم اکٹھے رہیں گے اور اُس نے اُن کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی اور وہ سب مع مسیح کے املوس نام ایک گاؤں میں رات رہے۔دیکھو لوقا باب ۲۴ آیت ۱۳ سے ۳۱ تک۔اب ظاہر ہے کہ ایک جلالی جسم کے ساتھ جو موت کے بعد خیال کیا گیا ہے مسیح سے فانی جسم کے عادات صادر ہونا اور کھانا اور پینا اور سونا اور جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کرنا جو یروشلم سے تقریباً ستر کوس کے فاصلے پر تھا بالکل غیر ممکن اور نا معقول بات ہے اور باوجود اس کے کہ خیالات کے میلان کی وجہ سے انجیلوں کے ان قصوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا ہے تا ہم جس قدر الفاظ پائے جاتے ہیں اُن سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اس فانی اور معمولی جسم سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پا جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کیا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات اُن کے پاس روٹی کھائی اور سویا اور آگے چل کر ہم ثابت کریں گے کہ اُس نے اپنے زخموں کا ایک مرہم کے استعمال سے علاج کیا۔اب یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی جسم پانے کے بعد یعنی اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھا کہ کھانے پینے سے پاک ہو کر ہمیشہ خدائے تعالے کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزہ ہو۔اور ازلی ابدی خدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہوا بھی اس میں یہ نقص باقی رہ گیا کہ اُس پر صلیب اور کیلوں کے تازہ زخم موجود تھے جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف اُن کے ساتھ تھی جن کے واسطے ایک مرہم بھی تیار کی گئی تھی اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جو ابد تک سلامت اور بے عیب اور کامل اور غیر متغیر چاہئیے تھا کئی قسم کے نقصانوں سے بھرا رہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلائیں۔پس بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور نہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک غشی کی حالت