حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 243
۹۲۵ کوئی شریف آدمی ایک سیکنڈ کے لئے بھی یسوع کے لئے یہ تمام نام جائز رکھے جو لعنت کی حقیقت اور روح ہیں۔پس اگر جائز نہیں تو دیکھو کہ کفارہ کی تمام عمارت گر گئی اور تکلیفی مذہب ہلاک ہو گیا۔اور صلیب ٹوٹ گیا۔کیا کوئی دنیا میں ہے جو اس کا جواب دے؟ تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۳۳ تا ۳۵ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۰ تا ۴۲ بار دوم ) جاننا چاہے کہ اگر چہ عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسی یہودا اسکر یوطی کی شرارت سے گرفتار ہو کر مصلوب ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے لیکن انجیل شریف پر غور کرنے سے یہ اعتقادسراسر باطل ثابت ہوتا ہے۔متی باب ۱۲ آیت ۴۰ میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بے ہوشی اور غخشی تھی۔اور خدا کی پاک کتا ہیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا پھر اگر حضرت مسیح علیہ السلام زمین کے پیٹ میں مر گئے تھے تو مُردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مُردہ سے کیا مناسبت؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا لعنتی موت سے اُس کو بچائے گا اس لئے اُس نے خدا سے الہام پا کر پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی اور اس مثال میں جتلا دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا اور نہ لعنت کی لکڑی پر اس کی جان نکلے گی بلکہ یونس نبی کی طرح صرف غشی کی حالت ہوگی اور مسیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا اور یونس کی طرح قوم میں عزت پائے گا۔سو یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی کیونکہ مسیح زمین کے پیٹ میں سے نکل کر اپنی ان قوموں کی طرف گیا جو کشمیر اور تبت وغیرہ مشرقی ممالک میں سکونت رکھتی تھیں یعنے بنی اسرائیل کے وہ دین فرقے جن کو شالمنذرشاہ اسور سامریہ سے مسیح سے سات سو اکیس برس پیشتر اسیر کر کے لے گیا۔آخر وہ ہندوستان کی طرف آ کر اس ملک کے متفرق مقامات میں سکونت پذیر ہو گئے تھے اور ضرور تھا کہ مسیح اس سفر کو اختیار کرتا کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی اس کی نبوت کی علت غائی تھی کہ وہ اُن گمشدہ یہودیوں کو ملتا جو ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت پذیر ہو گئے تھے۔وجہ یہ کہ در حقیقت وہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جنہوں نے ان ملکوں میں آکر اپنے باپ دادے کا مذہب بھی ترک کر دیا تھا اور اکثر اُن کے بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے اور پھر رفتہ رفتہ بت پرستی تک نوبت پہنچی تھی۔۔