حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 240
۹۲۲ ہوں اور ایک بھی ہو اور ایک بھی کامل خدا اور تین بھی کامل خدا ہو۔عیسائی مذہب بھی عجیب مذہب ہے کہ ہر ایک بات میں غلطی اور ہر ایک امر میں لغزش ہے اور پھر باوجو دان تمام تاریکیوں کے آئندہ زمانہ کے لئے وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے اور اب ان تمام اناجیل کی غلطیوں کا فیصلہ حسب اعتقاد عیسائیوں کے وحی جدید کی رُو سے تو غیر ممکن ہے کیونکہ ان کے عقیدہ کے موافق اب وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اب تمام مدار صرف اپنی اپنی رائے پر ہے جو جہالت اور تاریکی سے مبرا نہیں اور ان کی انجیلیں اس قدر بے ہودگیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کا شمار کرنا غیر ممکن ہے مثلاً ایک عاجز انسان کو خدا بنانا اور دوسروں کے گناہوں کی سزا میں اس کے لئے صلیب تجویز کرنا اور تین دن تک اس کو دوزخ میں بھیجنا اور پھر ایک طرف خدا بنانا اور ایک طرف کمزوری اور دروغ گوئی کی عادت کو اس کی طرف منسوب کرنا۔چنانچہ انجیلوں میں بہت سے ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جن سے نعوذ باللہ حضرت مسیح کا دروغ گو ہونا ثابت ہوتا ہے۔مثلاً وہ ایک چور کو وعدہ دیتے ہیں کہ آج بہشت میں تو میرے ساتھ روزہ کھولے گا اور ایک طرف وہ خلاف وعدہ اُسی دن دوزخ میں جاتے ہیں اور تین دن دوزخ میں ہی رہتے ہیں۔ایسا ہی انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان آزمائش کے لئے مسیح کو کئی جگہ لئے پھرا۔یہ عجیب بات ہے کہ مسیح خدا بن کر بھی شیطان کی آزمائش سے نہ بچ سکا اور شیطان کو خدا کی آزمائش کی جرات ہوگئی۔یہ انجیل کا فلسفہ تمام دنیا سے نرالا ہے اگر در حقیقت شیطان مسیح کے پاس آیا تھا تو مسیح کے لئے بڑا عمدہ موقع تھا کہ یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتا کیونکہ یہودی حضرت مسیح کی نبوت کے سخت انکاری تھے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۸، ۳۴۹) یقیناً سمجھو کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس کی طرف قرآن شریف بلاتا ہے۔اس کے سوا سب انسان پرستیاں یا سنگ پرستیاں ہیں۔بیشک مسیح ابن مریم نے بھی اس چشمہ سے پانی پیا ہے جس سے ہم پیتے ہیں اور بلا شبہ اُس نے بھی اُس پھل میں سے کھایا ہے جس سے ہم کھاتے ہیں لیکن ان باتوں کو خدائی سے کیا تعلق اور ابنیت سے کیا علاقہ ہے۔عیسائیوں نے مسیح کو ایک مقید خدا بنانے کا ذریعہ بھی خوب نکالا ہے یعنی لعنت۔اگر لعنت نہ ہو تو خدائی بے کا ر اور ابنیت لغو۔لیکن با تفاق تمام اہل لغت ملعون ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا سے دل برگشتہ ہو جائے۔بے ایمان ہو جائے۔مرتد ہو جائے۔خدا کا دشمن ہو جائے۔سیاہ دل ہو جائے۔کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہو جائے جیسا کہ توریت بھی گواہی دے رہی ہے۔پس کیا یہ مفہوم بھی ایک سیکنڈ کے لئے مسیح کے حق میں تجویز کر سکتے ہیں۔کیا اس پر ایسا