حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 238

۹۲۰ چلے اور شیطان اُس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا کی طمع دے؟ کیا یہ مجھ میں آ سکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھسا ہوا تھا ساری رات رو رو کر دعا کرتا رہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا؟ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہود اس عقیدہ پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیت کا قائل ہو۔اگر یہود کو موسیٰ سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے کیا یہ بات سوچنے کے لائق نہیں کہ عیسائیوں میں قدیم سے ایک فرقہ موحد بھی ہے جو قرآن شریف کے وقت میں بھی موجود تھا۔اور وہ فرقہ بڑے زور سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ تثلیث کا گندہ مسئلہ صرف تیسری صدی کے بعد نکلا ہے اور اب بھی اس فرقہ کے لاکھوں انسان یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں اور ہزار ہا کتا بیں ان کی شائع ہو رہی ہیں۔پس جبکہ اس قدر ملزم ہو کر پھر بھی پادری صاحبان اپنی بدزبانیوں سے باز نہیں آتے تو کیا اس وقت خدا کے فیصلہ کی حاجت نہیں؟ ضرور حاجت ہے تا جو جھوٹھا ہے ہلاک ہو جائے۔جو گروہ جھوٹا ہوگا اب بلاشبہ بھاگ جائے گا۔اور جھوٹے بہانوں سے کام لے گا۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۴۲،۴۱) بچے نبی کی سچائی پر یہ بھاری دلیل ہوتی ہے کہ وہ کامل اصلاح کا ایک بھاری نمونہ دکھلاوے۔پس جب ہم اس نمونہ کو حضرت مسیح کی زندگی میں غور کرتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کون سی اصلاح کی اور کتنے لاکھ یا ہزار آدمی نے ان کے ہاتھ پر تو بہ کی تو یہ خانہ بھی خالی پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ہاں باراں حواری ہیں مگر جب ان کا اعمال نامہ دیکھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے اور افسوس آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے تھے کہ اس قدر اخلاص کا دعوی کر کے پھر ایسی ناپاکی دکھلا دیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں۔کیا ے روپے لیکر ایک بچے نبی اور پیارے رہنما کو خونیوں کے حوالہ کرنا حواری کہلانے کی یہی حقیقت تھی؟ کیا لازم تھا کہ پطرس جیسا حواریوں کا سردار حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر ان پر لعنت بھیجے اور چند روزہ زندگی کے لئے اپنے مقتداء کو اس کے منہ پر گالیاں دے؟ کیا مناسب تھا کہ حضرت مسیح کے پکڑے جانے کے وقت میں تمام حواری اپنا اپنا راہ لیں اور ایک دم کے لئے بھی صبر نہ کریں؟ کیا جن کا پیارا نبی قتل کرنے کے لئے پکڑا جائے ایسے لوگوں کے صدق وصفا کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں جو حواریوں نے