حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 237
۹۱۹ کان ہو۔پس قیاس متذکرہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ حضرت مسیح کے دوسرے بھائی اور بہن بھی کچھ نہ کچھ خدائی میں سے بحرہ پاتے اور ان پانچوں حضرات کی والدہ تو رَبُّ الارباب ہی کہلاتی کیونکہ یہ پانچوں حضرات رُوحانی اور جسمانی قوتوں میں اُسی سے فیضیاب ہیں عیسائیوں نے ابن مریم کی بے جا تعریفوں میں بہت سا افترا بھی کیا مگر پھر بھی اس کے نقصانوں کو چھپا نہ سکے اور اس کی آلودگیوں کا آپ اقرار کر کے پھر خواہ نخواہ اس کو خدائے تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔یوں تو عیسائی اور یہودی اپنی عجیب کتابوں کے رُو سے سب خدا کے بیٹے ہی ہیں بلکہ ایک آیت کے رُو سے آپ ہی خدا ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدھ مت والے اپنے افترا اور اختراع میں ان سے اچھے رہے کیونکہ انہوں نے بدھ کو خدا ٹھہرا کر پھر ہرگز اس کے لئے یہ تجویز نہیں کیا کہ اُس نے پلیدی اور ناپاکی کی راہ سے تولد پایا تھا یا کسی قسم کی نجاست کھائی تھی بلکہ ان کا بدھ کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ وہ مونہہ کے راستہ سے پیدا ہوا تھا۔پر افسوس عیسائیوں نے بہت سی جعل سازیاں تو کیں مگر یہ جعل سازی نہ سوجھی کہ مسیح کو بھی مونہہ کے راستہ سے ہی پیدا کرتے اور اپنے خدا کو پیشاب اور پلیدی سے بچاتے اور نہ یہ سوجھی کہ موت جو حقیقت الوہیت سے بکلی منافی ہے اُس پر وارد نہ کرتے۔اور نہ یہ خیال آیا کہ جہاں مریم کے بیٹے نے انجیلوں میں اقرار کیا ہے کہ میں نہ نیک ہوں اور نہ دانا مطلق ہوں نہ خود بخود آیا ہوں۔نہ عالم الغیب ہوں۔نہ قادر ہوں نہ دعا کی قبولیت میرے ہاتھ میں ہے میں صرف ایک عاجز بندہ اور مسکین آدم زاد ہوں کہ جو ایک مالک رب العالمین کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ان سب مقاموں کو انجیل سے نکال ڈالنا چاہئے۔براہین احمدیہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۴۱ تا ۴۴۳ حاشیہ نمبر۱۱) ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسی پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا گشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی ؟ یوں تو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کر رہے ہیں مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نسبت بھی کبھی غور کی۔کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اُس پر انسان کی طرح کیونکر دُکھ کی مار پڑ گئی ؟ کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مارکھا لی؟ کیا یہ سمجھ آ سکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں۔اُس کے منہ پر تھوکیں۔اس کو پکڑیں۔اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے بلکہ خدا کہلا کر پھر اُس پر موت بھی آ جائے؟ کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی شکل پر آدم ہوا۔دوسرا یسوع۔تیسرا کبوتر۔اور تینوں میں سے ایک بچہ والا اور دولا ولد ؟ کیا یہ سمجھ آ سکتا ہے کہ خدا شیطان کے پیچھے پیچھے