حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 229
۹۱۱ میں نے بارہا عیسی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بار ہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی اور ایک ہی خوان میں میرے ساتھ اُس نے کھایا اور ایک دفعہ میں نے اس کو دیکھا اور اس فتنہ کے بارے میں پوچھا جس میں اس کی قوم مبتلا ہوگئی ہے۔پس اس پر دہشت غالب ہو گئی اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا اور اس کی تسبیح اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں تو صرف خا کی ہوں اور ان تہمتوں سے بری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں پس میں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا آدمی پایا۔نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۷،۵۶) جب میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی مذہب میں خدا شناسی کے تینوں ذریعے مفقود ہیں تو مجھے تعجب آتا ہے کہ کس بات کے سہارے سے یہ لوگ یسوع پرستی پر زور مار رہے ہیں۔کیسی بدنصیبی ہے کہ آسمانی دروازے ان پر بند ہیں۔معقولی دلائل ان کو اپنے دروازے سے دھکے دیتے ہیں اور منقولی دستاویزیں جو گذشتہ نبیوں کی مسلسل تعلیموں سے پیش کرنی چاہئے تھیں وہ ان کے پاس موجود نہیں مگر پھر بھی ان لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔انسان کی عظمندی یہ ہے کہ ایسا مذہب اختیار کرے کہ جس کے اصول خدا شناسی پر سب کا اتفاق ہو اور عقل بھی شہادت دے اور آسمانی دروازے بھی اس مذہب پر بند نہ ہوں۔سوغور کر کے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں صفتوں سے عیسائی مذہب بے نصیب ہے۔اس کا خداشناسی کا طریق ایسا نرالہ ہے کہ نہ اس پر یہودیوں نے قدم مارا اور نہ دنیا کی اور کسی آسمانی کتاب نے وہ ہدایت کی۔اور عقل کی شہادت کا یہ حال ہے کہ خود یورپ میں جس قدر لوگ علوم عقلیہ میں ماہر ہوتے جاتے ہیں وہ عیسائیوں کے اس عقیدے پر ٹھٹھا اور جنسی کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عقلی عقیدے سب کلیت کے رنگ میں ہوتے ہیں کیونکہ قواعد کلیہ سے ان کا استخراج ہوتا ہے۔لہذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان جائے کہ یسوع خدا ہے تو چونکہ دلائل کا حکم کلیت کا فائدہ بخشا ہے اس کو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کروڑ ہا خدا گزرے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے۔اور آسمانی نشانوں کی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسی مسیح کرتے مر بھی جائیں تا ہم ان کو آسمان سے کوئی نشان مل نہیں سکتا کیونکہ مسیح خدا ہو تو ان کو شان دے وہ تو بیچارہ اور عاجز اور ان کی فریاد سے بے خبر ہے۔اور اگر خبر بھی ہو تو کیا کر سکتا ہے۔اگر قیامت کے دن حضرت مسیح نے کہ دیا کہ میں تو خدا نہیں تھا تم نے کیوں خواہ نخواہ میرے ذمہ خدائی لگا دی تو پھر کہاں جائیں گے اور کس کے پاس جا کر روئیں گے!!؟