حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 228

۹۱۰ اُن کے لیکچر دلائے ہوں گے۔ایسے لیکچر نہایت پر بہار اور شوق انگیز ہوتے ہوں گے۔جب ایک مُردہ کھڑا ہو کر حاضرین کو سناتا ہوگا کہ اے حاضرین آپ لوگوں میں بہت ایسے اس وقت موجود ہیں جو مجھے شناخت کرتے ہیں۔جنہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے دفن کیا تھا۔اب میں خدا کے منہ سے سن کر آیا ہوں کہ عیسی مسیح سچا ہے اور اسی نے مجھے زندہ کیا تو عجب لطف ہوتا ہو گا۔اور ظاہر ہے کہ ایسے مُردوں کے لیکچروں سے یہودی قوم کے لوگوں کے دلوں پر بڑے بڑے اثر ہوتے ہوں گے۔اور ہزاروں لاکھوں یہودی ایمان لاتے ہوں گے۔پر قرآن شریف اور انجیل سے ثابت ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رد کر دیا تھا اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے ان کا گرا ہوا نمبر تھا اور تقریباً تمام یہودی ان کو ایک مکار اور کاذب خیال کرتے تھے۔اب عقلمند سوچے کہ کیا ایسے بزرگ اور فوق العادت معجزات کا یہی نتیجہ ہونا چاہیئے تھا؟ جبکہ ہزاروں مُردوں نے زندہ ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کی گواہی بھی دے دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بہشت کو دیکھ آئے ہیں۔اسمیں صرف عیسائی ہیں جو حضرت عیسی کے ماننے والے ہیں اور دوزخ کو دیکھا تو اس میں یہودی ہیں جو حضرت عیسی سے منکر ہیں تو ان سب باتوں کے بعد کس کی مجال تھی کہ حضرت عیسی کی سچائی میں ذرہ بھی شک کرتا۔اور اگر کوئی شک کرتا تو اُن کے باپ دادا جو زندہ ہو کر آئے تھے ان کو جان سے مارتے کہ اے ناپاک لوگو! ہماری گواہی اور پھر بھی شک۔پس یقینا سمجھو کہ ایسے معجزات محض بناوٹ ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۷، ۴۸) اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعوی اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور ابنیت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جوان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔( تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۳)