حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 227

۹۰۹ میں مودع ہے۔مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔چنانچہ اس بات کا تجر بہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجزوم ، مفلوج ، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ میسیج مٹی کے پرندے بنا کر اور اُن میں پھونک مار کر انہیں سچ سچ کے جانور بنا دیتا تھا۔نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ فَتَدَبَّرُ فَإِنَّهُ نُكْتَةٌ جَلِيلَةٌ مَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُوحَظْ عَظِيمٍ۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۱ تا ۲۶۳ حاشیه ) فرضی معجزات کے ساتھ جس قدر حضرت عیسی علیہ السلام متہم کئے گئے ہیں اس کی نظیر کسی اور نبی میں نہیں پائی جاتی۔یہاں تک کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ہزاروں بلکہ لاکھوں مُردے زندہ کر ڈالے تھے۔یہاں تک کہ انجیلوں میں بھی یہ مبالغہ آمیز باتیں لکھی ہیں کہ ایک مرتبہ تمام گورستان جو ہزاروں برسوں کا چلا آتا تھا سب کا سب زندہ ہو گیا تھا اور تمام مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔اب عظمند قیاس کر سکتا ہے کہ باجود یکہ کروڑہا انسان زندہ ہو کر شہر میں آگئے اور اپنے بیٹوں پوتوں کو آکر تمام قصے سنائے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کی تصدیق کی مگر پھر بھی یہودی ایمان نہ لائے۔اس درجہ کی سنگدلی کو کون باور کرے گا؟ اور درحقیقت اگر ہزاروں مُردے زندہ کرنا حضرت عیسی کا پیشہ تھا تو جیسا کہ عقل کے رو سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ تمام مردے بہرے اور گونگے تو نہیں ہوں گے اور جن لوگوں کو ایسے معجزات دکھلائے جاتے تھے کوئی ان مردوں میں سے ان کا بھائی ہو گا اور کوئی باپ اور کوئی بیٹا اور کوئی ماں اور کوئی دادی اور کوئی دادا اور کوئی دوسرا قریبی اور عزیز رشتہ دار۔اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تو کافروں کو مومن بنانے کی ایک وسیع راہ کھل گئی تھی۔کئی مُردے یہودیوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ ساتھ پھرتے ہوں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کئی شہروں میں