حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 220

۹۰۲ چڑھتے تھے مگر حضرت عیسی زندہ ہونے کی حالت میں ہی مع جسم مع لباس مع تمام لوازم جسمانی کے آسمان پر جا بیٹھے۔گویا یہ یہودیوں کی ضد اور انکار کا جو رفع روحانی سے منکر تھے نہایت مبالغہ کے ساتھ ایک جواب تراشا گیا اور یہ جواب سراسر نا معقول تھا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۵۷) ایک صاحب ہدایت اللہ نام جنہوں نے انکار معجزات عیسوی کا الزام اس عاجز کو دے کر ایک رسالہ بھی شائع کیا ہے۔وہ اپنے زعم میں ہماری کتاب ازالہ اوہام کی بعض عبارتوں سے یہ نکالتے ہیں کہ گویا ہم نعوذ باللہ سرے سے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے منکر ہیں۔مگر واضح رہے کہ ایسے لوگوں کی اپنی نظر اور فہم کی غلطی ہے۔ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں۔بیشک اُن سے بھی بعض معجزات ظہور میں آئے ہیں اور گوانجیل کے دیکھنے سے اُن کے معجزات پر بہت کچھ دھبہ لگتا ہے جیسا کہ تالاب کے قصہ اور خود اُن کے بار بار کے انکار سے کہ میں صاحب معجزات نہیں مگر ہمیں انجیل سے کیا کام قرآن کریم سے بہر حال ثابت ہوتا ہے کہ بعض نشان ان کو دیئے گئے تھے۔ہاں ہمارے کم توجہ علماء کی یہ غلطی ہے کہ اُن کی نسبت وہ گمان کرتے ہیں کہ گویا وہ بھی خالق العالمین کی طرح کسی جانور کا قالب تیار کر کے پھر اُس میں پھونک مارتے تھے اور وہ زندہ ہو کر اڑ جاتا اور مُردہ پر ہاتھ رکھتے تھے اور وہ زندہ ہو کر چلنے پھرنے لگتا تھا۔اور غیب دانی کی بھی اُن میں طاقت تھی اور اب تک مرے بھی نہیں مع جسم آسمان پر موجود ہیں۔اور اگر یہ باتیں جو ان کی طرف نسبت دی گئی ہیں صحیح ہوں تو پھر اُن کے خالق العالم اور عالم الغیب اور محی اموات ہونے میں کیا شک رہا؟ پس اگر اس صورت میں کوئی عیسائی اُن کی الوہیت پر استدلال کرے اس بنا پر کہ لوازم شے کا پایا جان وجو د شے کو مستلزم ہے تو ہمارے بھائی مسلمانوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ اگر کہیں کہ دعا سے ایسے معجزات ظہور میں آتے تھے تو یہ کلام الہی پر زیادت ہے کیونکہ قرآن کریم سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً پھونک مارنے سے وہ چیز جو ہیئت طیر کی طرح بنائی جاتی تھی اُڑنے لگتی تھی۔دعا کا تو قرآن کریم میں کہیں بھی ذکر نہیں اور نہ یہ ذکر ہے کہ اس ہیئت طیر میں در حقیقت جان پڑ جاتی تھی۔یہ تو نہیں چاہئے کہ اپنی طرف سے کلام الہی پر کچھ زیادت کریں۔یہی تو تحریف ہے جس کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت ہوئی۔پھر جس حالت میں جان پڑنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ معالم التنزیل اور بہت سی اور تفسیروں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہیئت طیر تھوڑی دیرا ڑ کر پھر مٹی کی طرح زمین پر گر پڑتی تھی تو بجز اس کے اور کیا سمجھا جائے کہ وہ دراصل مٹی کی مٹی ہی تھی