حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 215
۸۹۷ کی ہے اور پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے ؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں مگر یادر ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اُترا ہے۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور تو بہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۱۹ تا۲۶ حاشیه) یہ خیال کہ تناسخ کے طور پر حضرت مسیح بن مریم دنیا میں آئیں گے سب سے زیادہ رڈی اور شرم کے لائق ہے۔تناسخ کے ماننے والے تو ایسے شخص کا دنیا میں دوبارہ آنا تجویز کرتے ہیں جس کے تزکیہ نفس میں کچھ کسر رہ گئی ہو لیکن جو لوگ بکلی مراحل کمالات طے کر کے اس دنیا سے سفر کرتے ہیں وہ بزعم ان کے ایک مدت دراز کے لئے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں۔ماسوائے اس کے ہمارے عقیدہ کے موافق خدائے تعالیٰ کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اُس سے نکالے نہیں جائیں گے۔پھر تعجب کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیح کو اس فردوس بریں سے نکالنا چاہتے ہیں۔آپ ہی یہ قصے سناتے ہیں کہ حضرت اور لیں جب فرشتہ ملک الموت سے اجازت لے کر بہشت میں داخل ہوئے تو ملک الموت نے چاہا کہ پھر باہر آویں لیکن حضرت ادریس نے باہر آنے سے انکار کیا اور یہ آیت سنادی۔وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ا اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت مسیح اس آیت سے فائدہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں؟ کیا یہ آیت اُن کے حق میں منسوخ کا حکم رکھتی ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۷، ۱۴۸) میں حضرت عیسی علیہ السلام کی شان کا منکر نہیں گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں الحجر : ۴۹