حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 213

۸۹۵ کے عہد سے پیشتر فوت ہو گئے ہیں مگر بعض اُن میں سے زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک فوت نہیں ہوئے تو اس صورت میں یہ آیت قابل استدلال نہیں رہتی کیونکہ ایک ناتمام دلیل جو ایک قاعدہ کلیہ کی طرح نہیں اور تمام افراد گذشتہ پر دائرہ کی طرح محیط نہیں وہ دلیل کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتی پھر اس سے حضرت ابوبکر کا استدلال لغو ٹھہرتا ہے۔اور یادر ہے کہ یہ دلیل جو حضرت ابو بکر نے تمام گذشتہ نبیوں کی وفات پر پیش کی کسی صحابی سے اس کا انکار مروی نہیں۔حالانکہ اس وقت سب صحابی موجود تھے اور سب سُن کر خاموش ہو گئے۔اس سے ثابت ہے کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔سو حضرت ابوبکر کے احسانات میں سے جو اس امت پر ہیں ایک یہ بھی احسان ہے کہ انہوں نے اس غلطی سے بچنے کے لئے جو آئندہ زمانہ کے لئے پیش آنے والی تھی اپنی خلافت حقہ کے زمانہ میں سچائی اور حق کا دروازہ کھول دیا۔اور ضلالت کے سیلاب پر ایک ایسا مضبوط بند لگا دیا کہ اگر اس زمانہ کے مولویوں کے ساتھ تمام جنیات بھی شامل ہو جائیں تب بھی وہ اس بند کو تو ڑنہیں سکتے۔سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت ابوبکر کی جان پر ہزاروں رحمتیں نازل کرے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پاک الہام پا کر اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔( تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۴۶۱ ۴۶۲ حاشیہ) قرآن شریف نے صاف صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں دیکھو آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی یا صاف ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور نیز حدیث نبوی سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس جگہ توفی کے معنے مار دینے کے ہیں اور یہ کہنا بے جا ہے کہ یہ لفظ تَوَفَّيْتَنِی“ جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے یعنی ابھی نہیں مرے بلکہ آخری زمانہ میں جا کر مریں گئے“ کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری اُمت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔پس اگر فرض کیا جائے کہ اب تک حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اب تک نصاری بھی نہیں بگڑے کیونکہ آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا کہ نصاریٰ کا بگڑنا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے بعد ہے اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہوگی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔المائدة : ١١٨