حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 210

۸۹۲ شخص مسیح کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدہ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اس کو اس آیت موصوفہ بالا کے منشا کے موافق یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جو انجیل اور توریت کی رو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح پر اب بھی واجب ہیں۔حالانکہ یہ تکلیف مالا يطاق ہے۔عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ یہ حکم دیوے کہ اے عیسی جب تک تو زندہ ہے تیرے پر واجب ہے کہ تو اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہے اور پھر آپ ہی اس کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کو والدہ سے جدا کر دیوے۔اور تابحیات زکوۃ کا حکم دیوے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایسی جگہ پہنچا وے جس جگہ نہ وہ آپ زکوۃ دے سکتے ہیں اور نہ زکوۃ کیلئے کسی دوسرے کو نصیحت کر سکتے ہیں اور صلوٰۃ کے لئے تاکید کرے اور جماعت مومنین سے دور پھینک دیوے جن کی رفاقت صلوۃ کی تکمیل کیلئے ضروری تھی۔کیا ایسے اٹھائے جانے سے بجز بہت سے نقصان عمل اور ضائع ہونے حقوق عباد اور فوت ہونے خدمت امر معروف اور نہی منکر کے کچھ اور بھی فائدہ ہوا؟ اگر یہی اٹھارہ سوا کا نوے برس زمین پر زندہ رہتے تو ان کی ذات جامع البرکات سے کیا کیا نفع خلق اللہ کو پہنچتا۔لیکن ان کے اوپر تشریف لے جانے سے بجز اس کے اور کونسا نتیجہ نکلا کہ ان کی امت بگڑ گئی اور وہ خدمات نبوت کے بجالانے سے بکلی محروم رہ گئے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۰ تا ۳۳۲) ہم بخوبی ثابت کر چکے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر اس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے ایسے عقیدوں کے ساتھ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے۔اگر افریقہ کے ریگستان یا عرب کے صحرا نشین امیوں اور بدوؤں میں یا سمندر کے جزیروں کے اور وحشی لوگوں کی جماعتوں میں یہ بے سروپا باتیں پھیلائیں تو شائد آسانی سے پھیل سکیں لیکن ہم ایسی تعلیمات کو جو عقل اور تجربہ اور طبعی اور فلسفہ سے بکلی مخالف اور نیز ہمارے نبی ﷺ کی طرف سے ثابت نہیں ہوسکتیں بلکہ ان کے مخالف حدیثیں ثابت ہو رہی ہیں تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز پھیلا نہیں سکتے اور نہ یورپ امریکہ کے محقق طبع لوگوں کی طرف جو اپنے دین کے لغویات سے دست برادر ہو رہے ہیں بطور ہدیہ و تحفہ بھیج سکتے ہیں۔جن لوگوں کے دل اور دماغ کو نئے علوم کی روشنی نے انسانی قوتوں میں ترقی دیدی ہے وہ ایسی باتوں کو کیونکر تسلیم کر لیں گے جن میں سراسر خدائے تعالیٰ کی توہین اور اس کی توحید کی اہانت اور اس کے قانون قدرت کا ابطال اور