حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 208
190 اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلحم سے یا اشعار وقصائد ونظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بحجر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنوں پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۳) قرآن شریف ہی بتصریح ذکر کر چکا ہے جبکہ اس نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کوئی نبی نہیں آیا جو فوت نہ ہوا ہو۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ وَمَا جَعَلْتهم جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ اب ظاہر ہے کہ باوجود ان تمام آیات کے جو بآواز بلند مسیح کی موت پر شہادت دے رہی ہیں پھر بھی مسیح کو زندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ برخلاف مفہوم آیت وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطعام کے مسیح جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے درحقیقت خدائے تعالی کی پاک کلام سے روگردانی ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ ہے تو خدا تعالیٰ کا آیت ممدوحہ بالا میں یہ دلیل پیش کرنا کہ یہ نبی ﷺ اگر فوت ہو گیا تو اس کی نبوت پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ ابتداء سے سارے نبی مرتے ہی آئے ہیں بالکل نکمی اور لغو بلکہ خلاف واقعہ ٹھہر جائیگی اور خدا تعالیٰ کی شان اس سے بلند ہے کہ جھوٹھ بولے یا خلاف واقعہ کہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۸،۲۷۷) وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ۔اَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (سورة النحل الجز و نمبر ۱۴) یعنی جولوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں۔مرچکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ال عمران: ۱۴۵ ۳ الانبیاء: ۳۵ الانبياء: 9 الانبياء : ۲۲ ۵ النحل : ۲۱،۲۰