حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 207
۸۸۹ محض خدائے تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو اور پھر اس کے معنے بجر قبض روح کے اور مرادر کھے گئے ہوں۔لغات کی کتابوں قاموس صحاح صراح وغیرہ پر نظر ڈالنے والے بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ ضرب المثل کے طور پر بھی کوئی فقرہ عرب کے محاورات کا ایسا نہیں ملا جس میں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اور ذوی الروح کے بارہ میں استعمال میں لا کر پھر اس کے اور بھی معنے کئے ہوں بلکہ برابر ہر جگہ یہی معنے موت اور قبض روح کے کئے گئے ہیں اور کسی دوسرے احتمال کا ایک ذرہ راہ کھلا نہیں رکھا پھر بعد اس کے اس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تا معلوم ہو کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں صحابہ اور خود آنحضرت صلعم اس لفظ توفی کو ذوی الروح کی طرف منسوب کر کے کن کن معنوں میں استعمال کرتے تھے۔آیا یہ لفظ اس وقت ان کے روز مرہ محاورات میں کئی معنوں پر استعمال ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنے قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔سو اس تحقیقات کے لئے مجھے بڑی محنت کرنی پڑی اور ان تمام کتابوں صحیح بخاری، صحیح مسلم ، ترمذی، ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی ، دارمی ، مؤطا، شرح السنہ وغیرہ وغیرہ کا صفحہ صفحہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان تمام کتابوں میں جو داخل مشکوۃ ہیں تین سو چھالیس مرتبہ مختلف مقامات میں توفی کا لفظ آیا ہے اور ممکن ہے کہ میرے شمار کرنے میں بعض توفی کے لفظ رہ بھی گئے ہوں لیکن پڑھنے اور زیر نظر آ جانے سے ایک بھی لفظ باہر نہیں رہا۔اور جس قدر وہ الفاظ توفی کے ان کتابوں میں آئے ہیں خواہ وہ ایسا لفظ ہے جو آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلا ہے یا ایسا ہے جو کسی صحابی نے منہ سے نکالا ہے تمام جگہ وہ الفاظ موت اور قبض روح کے معنے میں ہی آئے ہیں اور چونکہ میں نے ان کتابوں کو بڑی کوشش اور جانکا ہی سے سطر سطر پر نظر ڈال کر دیکھ لیا ہے اس لئے میں دعویٰ سے اور شرط کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر ایک جگہ جو توفی کا لفظ ان کتابوں کی احادیث میں آیا ہے اس کے بج موت اور قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں اور ان کتابوں سے بطور استنقراء کے ثابت ہوتا ہے کہ بعد بعثت اخیر عمر تک جو آنحضرت ﷺ زندہ رہے کبھی آنحضرت ﷺ نے توفی کا لفظ بغیر معنی موت اور قبض روح کے کسی دوسرے معنی کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا اور نہ کبھی دوسرے معنی کا لفظ زبان مبارک پر جاری ہوا۔۔۔۔۔امام محمد اسماعیل بخاری نے اس جگہ اپنی صحیح میں ایک لطیف نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم سات ہزار مرتبہ توفی کا لفظ آنحضرت ﷺ کے منہ سے بعثت کے بعدا خیر عمر تک نکلا ہے اور ہر یک لفظ توفی کے معنے قبض روح اور موت تھی۔سو یہ نکتہ بخاری کا منجملہ ان نکات کے ہے جن سے حق کے طالبوں کو امام بخاری کا مشکور و ممنون ہونا چاہئے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ ۵۸ تا ۵۸۵)