حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 206

۸۸۸ صلى الله علوس ہم نے اپنے مخالف الرائے مولوی صاحبوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ممات کے بارے میں صرف ایک ہی سوال کیا تھا۔ اگر ایمانداری سے اس سوال میں غور کرتے تو ان کی ہدایت کیلئے ایک ہی سوال کافی تھا مگر کسی کو ہدایت پانے کی خواہش ہوتی تو غور بھی کرتا۔ سوال یہ تھا کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو جگہ توفی کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لفظ ہمارے نبی عام کے حق میں بھی قرآن کریم میں آیا ہے اور ایسا ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا میں بھی یہ لفظ اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا ہے اور کتنے اور مقامات میں بھی موجود ہے اور ان تمام مقامات پر نظر ڈالنے سے ایک منصف مزاج آدمی پورے اطمینان سے سمجھ سکتا ہے کہ توفی کے معنے ہر جگہ قبض روح اور مارنے کے ہیں نہ اور کچھ ۔ کتب حدیث میں بھی یہی محاورہ بھرا ہوا ہے۔ کتب حدیث میں توفی کے لفظ کو صد ہا جگہ پاؤ گے ۔ مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ بجز مارنے کے کسی اور معنے پر بھی استعمال ہوا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اگر ایک اُمی آدمی عرب کو کہا جائے آدمی عرب کو کہا جائے کہ تُوفِّيَ زَيْدٌ تو وہ اس فقرہ سے یہی سمجھے گا کہ الله زید وفات پا گیا۔ خیر عربوں کا عام محاورہ بھی جانے دو۔ خود آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبارکہ سے بھی عروسه یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی صحابی یا آپ کے عزیزوں میں سے فوت ہوتا تو آپ توفی کے لفظ سے ہی اس کی وفات ظاہر کرتے تھے۔ اور جب آنجناب علی نے وفات پائی تو صحابہ نے بھی توفی کے لفظ سے ہی آپ کی وفات ظاہر کی ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر کی وفات حضرت عمر کی وفات غرض تمام صحابہ کی وفات توفی کے لفظ سے ہی تقریراً تحریر بیان ہوئی اور مسلمانوں کی وفات کے لئے یہ لفظ ایک صلى الله عزت کا قرار پایا تو پھر جب مسیح پر یہی وارد ہوا تو کیوں اس کے خود تراشیدہ معنے لئے جاتے ہیں ۔ اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۹۳٬۲۹۲) عموم محاوره قرآن شریف کا توفی کے لفظ کے استعمال میں یہی واقعہ ہوا ہے کہ وہ تمام مقامات میں اوّل سے آخر تک ہر ایک جگہ جو تو فی کا لفظ آیا ہے اس کو موت اور قبض روح کے معنے میں لاتا ہے۔ اور جب عرب کے قدیم وجدید ا وجديد اشعار وقصائد و نظم و قصائد و نظم و نثر کا جہاں تک ممکن تھا تتبع کہ ک ممکن تھا تتبع کیا گیا اور عمیق تحقیقات - ات سے دیکھا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں توفی کے لفظ کا ذوی الروح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جل شانہ کو ٹھہرایا گیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنے موت وقبض روح کے کئے گئے ہیں اور اشعار قدیمہ اور جدیدہ عرب میں اور ایسا ہی ان کی نثر میں بھی ایک بھی لفظ توفی کا ایسا نہیں ملے گا جو ذوی الروح میں مستعمل ہو اور جس کا فاعل لفظ یا معناً خدائے تعالیٰ ٹھہرایا گیا ہو یعنی فعل عبد کا قرار نہ دیا گیا ہو اور