حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 203
۸۸۵ نہیں ہوتی لیکن اگر اس لفظ کو ایک کشفی استعارہ قرار دے کر معبرین کے مذاق اور تجارب کے موافق اس کی تعبیر کرنا چاہیں تو یہ معقول تعبیر ہوگی کہ حضرت مسیح اپنے ظہور کے وقت یعنی اس وقت میں کہ جب وہ مسیح ہونے کا دعوی کریں گے کسی قدر بیمار ہونگے اور حالت صحت اچھی نہیں رکھتے ہونگے کیونکہ کتب تعبیر کی رو سے زردرنگ پوشاک پہنے کی یہی تاویل ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۳٬۱۴۲) حضرت بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں معراج کی حدیث میں جو ہمارے سید مولی آنحضرت ﷺ صلى الله کی ملاقات کا حال دوسرے انبیاء سے آسمانوں پر لکھا ہے تو اس جگہ حضرت عیسی کا کوئی خاص طور پر مجسم ہونا ہرگز بیان نہیں کیا بلکہ جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت موسی کی روح سے آنحضرت علی کی ملاقات کا ذکر کیا ہے ایسا ہی بغیر ایک ذرہ فرق کے حضرت عیسی کی روح سے ملاقات ہونا بیان کیا ہے بلکہ حضرت موسی کی روح کا کھلے کھلے طور پر آنحضرت علی سے گفتگو کرنا مفصل طور پر لکھا ہے۔پس اس حدیث کو پڑھ کر کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ اگر حضرت مسیح جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں تو پھر ایسا ہی حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء بھی اس جسم کے ساتھ اٹھائے گئے ہونگے کیونکہ معراج کی رات میں وہ سب نبی آنحضرت عمے کو ایک ہی رنگ میں آسمانوں پر نظر آئے ہیں۔یہ نہیں کہ کوئی خاص وردی یا کوئی خاص علامت مجسم اٹھائے جانے کی حضرت مسیح میں دیکھی ہو اور دوسرے نبیوں میں وہ علامت نہ پائی گئی ہو۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۴۱۵۳) قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح اسی خا کی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے بلکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا صریح ذکر ہے اور ایک جگہ خود مسیح کی طرف سے فوت ہو جانے کا اقرار موجود ہے اور وہ یہ ہے۔كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شهید یا اب جبکہ فوت ہو جانا ثابت ہوا تو اس سے ظاہر ہے کہ ان کا جسم ان سب لوگوں کی طرح جو مرجاتے ہیں زمین میں دفن کیا گیا ہوگا۔کیونکہ قرآن شریف بصراحت ناطق ہے کہ فقط ان کی روح آسمان پر گئی نہ کہ جسم۔تب ہی تو حضرت مسیح نے آیت موصوفہ بالا میں اپنی موت کا صاف اقرار کر دیا۔اگر وہ زندوں کی شکل پر خا کی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرتے تو اپنے مرجانے کا ہرگز ذکر نہ کرتے اور ایسا ہر گز نہ کہتے کہ میں وفات پا کر اس جہاں سے رخصت کیا گیا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ المائدة: ١١٨