حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 202

۸۸۴ گا۔جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصه در حقیقت دو ہی ہیں۔ایک یہ کہ جب وہ صیح آئیگا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہوگی اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دیگا اور ان کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہرات علوم و حقائق و معارف ان کے سامنے رکھ دے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اور ان میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نا دار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقہ کے موتیوں سے ان کی جھولیاں پُر کر دی جائیگی اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے ان کو دیئے جائیں گے۔دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئیگا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کریگا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کا فرتک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا۔سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر صلیبی مذہب کی شان وشوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کی بے شرمی اور نجاست خواری ہے ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا۔اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ بکلی ندارد بلکہ ایک بدنما ٹینٹ اس میں نکلا ہوا ہے ان کو بین حجتوں کی سیف قاطعہ سے ملزم کر کے ان کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دیگا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دین محمدی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقعہ ہیں جو اس عاجز پر بخوبی کھولی گئی ہیں اب چاہے کوئی اس کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن آخر کچھ مدت اور انتظار کر کے اور اپنی بے بنیا دا میدوں سے پاس کلی کی حالت میں ہو کر ایک دن سب لوگ اس طرف رجوع کرینگے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۱ تا ۱۴۳ حاشیه) صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اترینگے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔اس لفظ کو ظاہری لباس پر حمل کرنا کیسا لغو خیال ہے۔زردرنگ پہننے کی کوئی وجہ معلوم