حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 197
۸۷۹ عیسائی لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح اٹھائے جانے کے بعد بہشت میں داخل ہو گئے۔لوکا کی انجیل میں خود حضرت مسیح ایک چور کو تسلی دے کر کہتے ہیں کہ آج تو میرے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی متفق علیہ ہے کہ کوئی شخص بہشت میں داخل ہو کر پھر اس سے نکالا نہیں جائیگا گو کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہو۔چنانچہ یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے۔اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَمَاهُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَا یعنی جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے اور قرآن شریف میں اگر چہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کی وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے۔اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے کیونکہ برطبق آیت قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، وَادْخُلِي جَنَّتِی کے وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں۔اب مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرب بندہ بہشت میں داخل کر کے پھر اس سے باہر نکال دیا جائے؟ کیا اس میں خدائے تعالیٰ کے اس وعدہ کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے؟ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہی معجزہ کفار مکہ نے ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے رو برو چڑھیں اور روبرو ہی اتریں۔اور انہیں جواب ملا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبّی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی حکیمانہ شان اس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دار الابتلاء میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو افضل الانبیاء تھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔؟ یہ کمال بے ادبی ہو گی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک کمال کو مستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قرین قیاس مان لیں۔کیا کسی سچے مسلمان سے ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔اب ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہادی اور سید مولی جناب ختم المرسلین نے مسیح اول اور مسیح ثانی میں ما بہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہوگا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم وصلوٰۃ وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہوگا اور مسلمانوں الحجر : ۴۹ يس : ۲۷ الفجر: ٣١ بنی اسراءیل: ۹۴