حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 192

۸۷۴ دوبارہ زمین پر آکر اپنی نبوت کا نام بھی نہیں لے گا بلکہ منصب نبوت سے معزول ہو کر آئے گا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہو کر عام مسلمانوں کی طرح شریعت قرآنی کا پابند ہوگا۔نماز اوروں کے پیچھے پڑھے گا۔جیسے عام مسلمان پڑھا کرتے ہیں۔بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حنفی ہوگا امام اعظم صاحب کو اپنا امام سمجھے گا مگر اب تک اس بارہ میں تصریح سے بیان نہیں کیا گیا کہ چار سلسلوں میں سے کس سلسلہ میں داخل ہوگا۔آیا وہ قادری ہوگا یا چشتی یا سہروردی یا حضرت مجد دسر ہندی کی طرح نقشبندی۔غرض ان لوگوں نے عنوان میں نبوت کا خطاب جما کر جس درجہ پر پھر اس کا تنزل کیا ہے کوئی قائم الحواس ایسا کام کبھی نہیں کر سکتا۔پھر بعد اس کے اس کے خاص کام استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔خنزیروں کو قتل کرے گا۔اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کونسا فائدہ ہے؟ اور اگر اس نے مثلاً دس میں لاکھ صلیب تو ڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے ؟ اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی مگر شاید عیسائیوں کو ان کی اس خنر سر کشی سے کچھ چنداں فائدہ نہ پہنچ سکے کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی کمال تک پہنچا رکھا ہے۔بالفعل خاص لنڈن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کیلئے ہزار دوکان موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دوکان نہیں بلکہ پچیس ہزار اور خنزیر ہر روزلنڈن میں سے مفضلات کے لوگوں کیلئے باہر بھیجا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی اللہ کی یہی شان ہونی چاہیے؟ کہ وہ دنیا میں اصلاح خلق کے لئے تو آوے مگر پھر اپنی اوقات عزیز ایک مکروہ جانور خنزیر کے شکار میں ضائع کرے۔حالانکہ توریت کے رو سے خنزیر کو چھونا بھی سخت معصیت میں داخل ہے۔پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہو گی اور دن رات یہی کام پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گورخر اور خرگوش دنیا میں کچھ کم ہیں تا ایک نا پاک جانور کے خون سے ہاتھ آلودہ کریں۔تا اب میں نے وہ تمام خا کہ جو میری قوم نے مسیح کے ان سوانح کا کھینچ رکھا ہے جو دوبارہ زمین پر اترنے کے