حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 191
۸۷۳ کیا گیا ہے۔سو ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کے زمانہ کا ہمرنگ ہو گا۔ایک شخص اصلاح خلائق کے لئے دنیا میں آئے گا جو طبع اور قوت اور اپنے منصبی کام میں مسیح بن مریم کا ہمرنگ ہوگا اور جیسا کہ مسیح بن مریم نے حضرت موسیٰ کے دین کی تجدید کی اور وہ حقیقت اور مغز توریت کا جس کو یہودی لوگ بھول گئے تھے ان پر دوبارہ کھول دیا ایسا ہی وہ مسیح ثانی مثیل موسیٰ کے دین کو جو جناب خاتم الانبیاء ہے میں تجدید کریگا اور یہ مثیل موسیٰ کا مسیح اپنی سوانح میں اور دوسرے تمام نتائج میں جو قوم پر ان کی اطاعت یا ان کی سرکشی کی حالت میں مؤثر ہوں گے اس مسیح سے بالکل مشابہ ہوگا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا۔اب جو امر کہ خدائے تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔مسلمانوں کا پرانے خیالات کے موافق جو ان کے دلوں میں جمے ہوئے چلے آتے ہیں یہ دعوی ہے که مسیح بن مریم سچ مچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے ہوئے آسمان سے اتریگا اور منارہ مشرقی دمشق کے پاس آ ٹھہر یگا۔اور بعض کہتے ہیں کہ منارہ پر اترے گا۔اور وہاں سے مسلمان لوگ زینہ کے ذریعہ سے اس کو نیچے اتاریں گے اور فرشتے اسی جگہ سے رخصت ہو جائیں گے اور عمدہ پوشاک پہنے ہوئے اتریگا یہ نہیں کہ نگا ہو اور پھر مہدی کے ساتھ ملاقات اور مزاج پرسی ہوگی اور باوجود اس قدر مدت گزرنے کے وہی پہلی عمر بتیس یا تینتیس برس کی ہوگی اس قدر گردش ماہ وسال نے اس کے جسم و عمر پر کچھ اثر نہ کیا ہوگا۔اس کے ناخن اور بال وغیرہ اس قدر سے نہ بڑھے ہونگے جو آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت موجود تھے اور کسی قسم کا تغیر اس کے وجود میں نہ آیا ہوگا۔لیکن زمین پر اتر کر پھر سلسلۂ تغیرات کا شروع ہو گا۔وہ کسی قسم کا جنگ و جدل نہیں کرے گا بلکہ اس کی منہ کی ہوا میں ہی ایسی تاثیر ہوگی کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے۔یعنی اس کے دم میں ہی یہ خاصیت ہوگی کہ زندوں کو مارے جیسی پہلے یہ خاصیت بھی کہ مردوں کو زندہ کرے۔پھر ہمارے علماء اپنے اس پہلے قول کو فراموش کر کے یہ دوسرا قول جو اس کا نقیض ہے پیش کرتے ہیں کہ وہ جنگ اور جدل بھی کر یگا اور دجال یک چشم اس کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔یہودی بھی اس کے حکم سے مارے جائیں گے۔پھر ایک طرف تو یہ اقرار ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح بن مریم نبی اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔جس پر حضرت جبریل اترا کرتا تھا۔جو خدائے تعالیٰ کے بزرگ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ