حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 180

۸۶۲ میں فساد اور فتنوں کے وقتوں میں ایسے مصلح آتے رہیں جن کو انبیاء کے کئی کاموں میں سے یہ ایک کام سپرد ہو کہ وہ دین حق کی طرف دعوت کریں اور ہر یک بدعت جو دین سے مل گئی ہو۔اس کو دور کریں اور آسمانی روشنی پا کر دین کی صداقت ہریک پہلو سے لوگوں کو دکھلا دیں اور اپنے پاک نمونہ سے لوگوں کو سچائی اور محبت اور پاکیزگی کی طرف کھینچیں اور وہ دلائل یہ ہیں :۔اول یہ کہ اس بات کو عقل ضروری تجویز کرتی ہے کہ چونکہ الہیات اور امور معاد کے مسائل نہایت باریک اور نظری ہیں گویا تمام امور غیر مرئی اور فوق العقل پر ایمان لانا پڑتا ہے۔نہ خدا تعالیٰ کبھی کسی کو نظر آیا۔نہ کبھی کسی نے بہشت دیکھی اور نہ دوزخ کا ملاحظہ کیا اور نہ ملائک سے ملاقات ہوئی۔اور علاوہ اس کے احکام الہی مخالف جذبات نفس ہیں اور نفس امارہ جن باتوں میں لذت پاتا ہے احکام الہی ان سے منع کرتے ہیں لہذا عند العقل یہ بات نہ صرف احسن بلکہ واجب ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک نبی جو شریعت اور کتاب لے کر آتے ہیں اور اپنے نفس میں تاثیر اور قوت قدسیہ رکھتے ہیں یا تو وہ ایک لمبی عمر لے کر آویں اور ہمیشہ اور ہر صدی میں ہر ایک اپنی نئی امت کو اپنی ملاقات اور صحبت سے شرف بخشیں اور اپنے زیر سایہ رکھ کر اور اپنے پر فیض پروں کے نیچے ان کو لے کر وہ برکت اور نور اور روحانی معرفت پہنچاویں جو انہوں نے ابتدائے زمانہ میں پہنچائی تھی اور اگر ایسا نہیں تو پھر ان کے وارث جو انہیں کے کمالات اپنے اندر رکھتے ہوں اور کتاب الہی کے دقائق اور معارف کو وحی اور الہام سے بیان کر سکتے ہیں اور منقولات کو مشہودات کے پیرا یہ میں دکھلا سکتے ہوں اور طالب حق کو یقین تک پہنچا سکتے ہوں ہمیشہ فتنہ اور فساد کے وقتوں میں ضرور پیدا ہونے چاہئے تا انسان جو مغلوب شبہات ونسیان ہے ان کے فیض حقیقی سے محروم نہ رہے کیونکہ یہ بات نہایت صاف اور بدیہی ہے کہ جب زمانہ ایک نبی کا اپنے خاتمہ کو پہنچتا ہے اور اس کی برکات کے دیکھنے والے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ تمام مشہورات منقولات کے رنگ میں آ جاتے ہیں۔پھر دوسری صدی کے لوگوں کی نظر میں اس نبی کے اخلاق اور اس نبی کی عبادات اور اس نبی کا صبر اور استقامت اور صدق اور صفا اور وفا اور تمام تائیدات الہیہ اور خوارق اور معجزات جن سے اس کی صحت نبوت اور صداقت دعوئی پر استدلال ہوتے تھے نئی صدی کے لوگوں کو کچھ قصے سے معلوم ہوتے ہیں اور اس وجہ سے وہ انشراح ایمانی اور جوش اطاعت جو نبی کے دیکھنے والوں میں ہوتا ہے دوسروں میں وہ بات پائی نہیں جاتی اور صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ صحابہ آنحضرت ﷺ نے ایمانی صدق دکھلایا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنی آبروؤں کو اسلام کی راہوں میں نہایت اخلاص سے قربان کیا اس کا نمونہ اور