حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 14

۶۹۶ جو انسان پیدا ہوا آج تک جو آخری دن ہیں صرف ایک ہی ذریعہ گناہ اور نافرمانی سے بچنے کا ثابت ہوا ہے اور وہ یہ کہ انسان یقینی دلائل اور چمکتے ہوئے نشانوں کے ذریعہ سے اس معرفت تک پہنچ جائے کہ جو در حقیقت خدا کو دکھا دیتی ہے اور کھل جاتا ہے کہ خدا کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے اور پھر حجتي حسن الہی ہو کر ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر ایک کامل لذت خدا میں ہے یعنی جلالی اور جمالی طور پر تمام پردے اُٹھائے جاتے ہیں۔یہی ایک طریق ہے جس سے جذبات نفسانی رکتے ہیں اور جس سے چار نا چا را یک تبدیلی انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔اس جواب کے وقت کتنے لوگ بول اٹھیں گے کیا ہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے ؟ کیا ہم خدا سے نہیں ڈرتے اور اس سے محبت نہیں رکھتے ؟ اور کیا تمام دنیا بجو تھوڑے افراد کے خدا کو نہیں مانتی ؟ اور پھر وہ طرح طرح کے گناہ بھی کرتے ہیں اور انواع واقسام کے فسق و فجور میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور عرفان اور چیز ہے اور ہماری تقریر کا یہ مدعا نہیں ہے کہ مومن گناہ سے بچتا ہے بلکہ یہ مدعا ہے کہ عارف کامل گناہ سے بچتا ہے۔یعنی وہ کہ جس نے خوف الہی کا مزا بھی چکھا اور محبت الہی کا بھی۔شائد کوئی کہے کہ شیطان کو معرفت کامل حاصل ہے پھر وہ کیوں نا فرمان ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ اُس کو وہ معرفت کامل ہرگز حاصل نہیں ہے جو سعیدوں کو بخشی جاتی ہے۔انسان کی یہ فطرت میں ہے کہ کامل درجہ کے علم سے ضرور وہ متاثر ہوتا ہے اور جب ہلاکت کی راہ اپنا ہیبت ناک منہ دکھاوے تو اس کے سامنے نہیں آتا۔مگر ایمان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ حسن ظن سے مان لے۔لیکن عرفان کی حقیقت یہ ہے کہ اُس مانی ہوئی بات کو دیکھ بھی لے پس عرفان اور عصیان دونوں کا ایک ہی دل میں جمع ہونا محال ہے جیسا کہ دن اور رات کا ایک ہی وقت میں جمع ہو جانا محال ہے۔تمہارا روز مرہ کا تجربہ ہے کہ ایک چیز کا مفید ہونا جب ثابت ہو جائے تو فی الفور اُس کی طرف ایک رغبت پیدا ہو جاتی ہے اور جب مضر ہونا ثابت ہو جائے تو فی الفور دل اس سے ڈرنے لگتا ہے۔مثلاً جس کو یہ معلوم نہیں کہ یہ چیز جو میرے ہاتھ میں ہے یہ سم الفار ہے وہ اس کو طباشیر یا کوئی مفید دوا سمجھ کر ایک ہی وقت میں تولہ یا دو تولہ تک بھی کھا سکتا ہے۔لیکن جس کو اس بات کا تجربہ ہو چکا ہے کہ یہ تو زہر قاتل ہے وہ بقدر ایک ماشہ بھی اس کو استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے کھانے کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔اسی طرح جب انسان کو واقعی طور پر علم ہو جاتا ہے کہ بلاشبہ خدا موجود ہے اور درحقیقت تمام قسم کے گناہ اس کی نظر میں قابلِ سزا ہیں جیسے چوری، خونریزی، بدکاری، ظلم، خیانت،