حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 13

۶۹۵ ہے کیا تم بھوک کی حالت میں صرف ایک دانہ سے سیر ہو سکتے ہو یا پیاس کی حالت میں صرف ایک قطرہ سے سیراب ہو سکتے ہو۔پس اے سُست ہمتو ! اور طلب حق میں کا ہلو! تم تھوڑی معرفت سے، تھوڑی محبت سے اور تھوڑے خوف سے کیونکر خدا کے بڑے فضل کے اُمیدوار ہو سکتے ہو۔گناہ سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اور اپنی محبت سے دل کو پر کر دینا اسی قادر و توانا کا فضل ہے اور اپنی عظمت کا خوف کسی دل میں قائم کرنا اسی جناب کے ارادہ سے وابستہ ہے اور قانونِ قدرت قدیم سے ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ معرفت کا ملہ کے بعد ملتا ہے۔خوف اور محبت اور قدردانی کی جڑھ معرفت کا ملہ ہے پس جس کو معرفت کاملہ دی گئی اُس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی اس کو ہر ایک گناہ سے جو بیا کی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔پس ہم اس نجات کے لئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ایسی قربانی کا دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔اسلام کے معنے ہیں ذبح ہونے کے لئے گردن آگے رکھ دینا یعنی کامل رضا کے ساتھ اپنی روح کو خدا کے آستانہ پر رکھ دینا۔یہ پیارا نام تمام شریعت کی روح اور تمام احکام کی جان ہے۔ذبح ہونے کے لئے اپنی دلی خوشی اور رضا سے گردن آگے رکھ دینا کامل محبت اور کامل عشق کو چاہتا ہے اور کامل محبت کامل معرفت کو چاہتی ہے۔پس اسلام کا لفظ اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی قربانی کے لئے کامل معرفت اور کامل محبت کی ضرورت ہے نہ کسی اور چیز کی ضرورت۔اسی کی طرف خدا تعالی قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے۔لَن يَنَالَ اللهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ یعنی تمہاری ( قربانیوں ) کے نہ تو گوشت میرے تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ خون بلکہ صرف یہ قربانی میرے تک پہنچتی ہے کہ تم مجھ سے ڈرو اور میرے لئے تقوی اختیار کرو۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۰ تا ۱۵۲) اگر یہ سوال پیش ہے کہ اگر خونِ مسیح گناہوں سے پاک نہیں کر سکتا جیسا کہ وہ واقعی طور پر پاک نہیں کر سکا تو پھر گناہوں سے پاک ہونے کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ گندی زندگی در حقیقت مرنے سے بدتر ہے۔تو میں اس سوال کے جواب میں نہ صرف پُر زور دعوی سے بلکہ اپنے ذاتی تجربہ سے اور اپنی حقیقت اس آزمائشوں سے دیتا ہوں کہ در حقیقت گناہوں سے پاک ہونے کے لئے اُس وقت سے الحج : ٣٨