حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 173
۸۵۵ ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت علیہ کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی۔اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فردامت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے۔پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنا فی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے۔ایسے طور پر کہ ان کا وجود اپنا وجود نہ رہا بلکہ ان کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت ﷺ کا وجود منعکس ہو گیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الہیہ نبیوں کی طرح ان کو نصیب ہوا۔پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود اُمتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا کیونکہ ایسی صورت کی نبوت نبوت محمدیہ سے الگ نہیں بلکہ اگر غور سے دیکھو تو خود وہ نبوت محمد یہ ہی ہے جو ایک پیرا یہ جدید میں جلوہ گر ہوئی۔یہی معنے اس فقرہ کے ہیں جو آنحضرت علی ہے نے مسیح موعود کے حق میں فرمایا کہ نَبِيُّ اللهِ وَ اِمَامُكُمُ مِنكُم یعنی وہ نبی بھی ہے اور امتی بھی ہے۔ورنہ غیر کو اس جگہ قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے تا ہلاک ہونے سے بچ جائے۔رسالہ الوصیت - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۲۳۱۱) عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد علیہ اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی پیچ سے جدا ہے۔پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہوا اگر چہ بظاہر دونظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا۔یہی بھید ہے کہ آنحضرت علیہ فرماتے ہیں که مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دورنگی نہیں آئی۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۶،۱۵) اس نکتہ کو یا د رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوئی اور نئے نام