حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 172
۸۵۴ سے انکار نہیں ہے اس لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے؟ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔مگر نبوت کے معنے اظہار امر غیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے۔یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۷ تا ۲۱۰) تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے اور تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں ان کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی۔کیونکہ نبوت محمد یہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں۔نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں۔اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے۔اور ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ جس چیز کیلئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا مگر اس کا کامل پیر وصرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ہاں اُمتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آ سکتے ہیں۔کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پرمشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ كُنْتُمُ خَيْرَ اُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ لِے اور جن کیلئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یے ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا۔اور ال عمران: ااا الفاتحة : ٧،٦